امریکہ سے شیطانیت کا خاتمہ چاہتے ہیں،نو منتخب امریکی صدرجوبائیدن

0

واشنگٹن(اے ون نیوز) امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ہم لوگوں کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کریں گےامریکی عوام ڈیموکریٹس اور ریپبلکن پارٹیز کے درمیان تعاون کے خواہاں ہیں تاکہ امریکہ میں شیطانیت کے خاتمے کا آغاز ہو سکے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے بعد ریاست ڈیلاوئیر کے شہر ولمنگٹن کے چیز سینٹر سے امریکیوں سے اپنے پہلے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ وہ تفرقہ پھیلانے کے بجائے لوگوں کو آپس میں ملانے والے صدر بنیں گے،

وائٹ ہاﺅس کی دوڑ جیتنے کے بعد بائیڈن نے ایک ایسا لیڈر بننے کا عزم کیا جو عالمی وبا، معاشی اور معاشرتی انتشار کی لپیٹ میں آئی ہوئی قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا چاہتے ہیں اس خطاب کے دوران ان کے ہمراہ کمالہ ہیرس بھی موجود تھیں جو امریکہ کی پہلی خاتون اور سیاہ فام نائب صدر منتخب ہوئی ہیں. جو بائیڈن نے اس موقع پر کہا کہ وہ ان پر بھروسہ اور اعتماد کرنے پر عوام کے شکرگزار ہیں انہوں نے کہا اسی بھروسے اور اعتماد کی وجہ سے وہ امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدر بنے ہیںانہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کے لیے بھی اتنی ہی جاں فشانی سے کام کروں گا جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا.

امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے صدر ہوں گے جو تفرقہ پھیلانے کے بجائے لوگوں کو متحد کرے گا، جو نیلی ریاست (ڈیموکریٹس) یا لال ریاست (رپبلکن) نہیں دیکھے گا بلکہ پورے امریکہ کو دیکھے گا اور اپنا پورا دل و جان لگا کر اپنی قوم کا اعتماد جیتنے کی کوشش کرے گا. ادھرصدر ٹرمپ نے اب تک شکست تسلیم نہیں کی ہے اور انتخاب کے نتائج کے اعلان کے بعد عوام سے گفتگو نہیں کی بلکہ وہ گالف کھیلنے میں مصروف تھے یہ 1992 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کوئی صدر اپنے پہلے دورِ صدارت کے بعد دوسری بار صدر منتخب ہونے میں ناکام ہوا ہو.

نو منتخب صدر جو بائیڈن نے قوم سے خطاب میں کہا کہ وہ بہت شکر گزار ہیں کہ ان پر بھروسہ اور اعتماد کیا گیا جس کی مدد سے وہ امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ میں7 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدر بن گئے انہوں نے کہا کہ میں نے اس عہدے کے لیے اس لیے مقابلہ کیا تاکہ میں امریکہ کی روح کو دوبارہ بحال کر سکوں، تاکہ اس ملک کو دوبارہ تعمیر کر سکوں، اس کے متوسط طبقے اور پورے امریکہ کے وقار کو دنیا بھر میں بحال کر سکوں، اور اپنے ملک میں ہم سب کو یکجا کر سکوں.

نو منتخب صدر نے کہا کہ یہ ان کے لیے بہت عزت کا مقام ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں انہیں ووٹ دیے گئے تاکہ وہ اپنے مشن کو پورا کر سکیں جو بائیڈن نے خصوصی طور افریقی امریکی اور دیگر اقلیتی کمیونٹیزکے ووٹرز کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ ان کمیونٹیزنے میری کامیابی انتہائی اہم کردار اداکیا ہے میں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا انہوں نے لاطینی امریکی کمیونٹی کے کردارکو بھی سراہا واضح رہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران جوبائیڈن وہ سارے اقدامات واپس لینے کا وعدہ کیا تھا جوصدر ٹرمپ کے عہدمیں صدارتی حکم ناموں کے ذریعے اقلیتی کمیونٹیزکے خلاف اٹھائے گئے تھے انہوں نے صدرٹرمپ کی جانب سے سفری پابندیوں کا شکار ملکوں کی فہرست کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا.

عبرانی زبان کی کتاب ایکلیسیاٹیس کا حوالے دیتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ہر چیز کا اپنا وقت ہوتا ہے اور یہ وقت ہے امریکہ کے زخم مندمل کرنے کا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ان افراد کے لیے بھی اتنی ہی محنت کریں گے جنہوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا جتنا ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ان کو ووٹ دیا. اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ تاریخی طور پر امریکہ اہم لمحات پر لیے گئے فیصلوں کی بنیاد پر اپنی ڈگر پر چلا ہے اور اس سلسلے میں ماضی کے راہنماﺅں نے مشکل فیصلے لیے صدر لنکن نے 1860 میں ہماری یونین کو بچایا، روزویلٹ نے 1932 میں ملک کو ایک نئی راہ دکھائی، جان کینیڈی نے 1960 میں اور پھر باراک اوباما نے 2008 میں کہا کہ ہم کر سکتے ہیں ہمارا ملک ایک ایسی جد و جہد سے گزر کر اپنے مقام تک پہنچا ہے.

انہوں نے کہاآج پوری دنیا امریکہ کو دیکھ رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ جب ہم اپنے بہترین کردار کو پیش کرتے ہیں تو پوری دنیا کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں آئیں، مل کر ایک ایسا ملک بنیں جو ہمیں یقین ہے کہ بن سکتے ہیں ایک ایسا ملک جو متحد ہو، مضبوط ہو، اور صحت یاب ہو. مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیو یارک کے ٹائمزسکوائرپر نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کا پہلا خطاب کو سننے کے لیے لوگوں بہت بڑی تعداد جمع تھی جنہوں بڑی سکرینز پر جو بائیڈن کی تقریر سنی نیو یارک شہر میں ٹرمپ ٹاور کے باہر پولیس کی جانب سے حفاظتی حصار ایک بلاک تک بڑھا دیا گیا ہے اور کسی کو بھی ٹرمپ ٹاور کی طرف جانے کی اجازت نہیں جبکہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کے حامی ٹاور کے حصار سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے.

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ووٹوں کی گنتی پر مزید قانونی کارروائی کی دھمکی اور بائیڈن کی فتح تسلیم کرنے سے انکار پر 77 سالہ بائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ کا رویہ امریکی جمہوریت کے وجود لیے ایک خطرہ ہے. یاد رہے کہ جو بائیڈن اس سے قبل بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے دو بار صدارتی الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی نامزدگی کی دوڑ میں شامل رہے ہیں جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا صدارتی انتخاب 2020میں اب تک امریکہ کی 46 ریاستوں کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج آ چکے ہیں جن کے مطابق جو بائیڈن نے 290 الیکٹرول ووٹ حاصل کر لیے ہیں

جبکہ وائس آف امریکا نے محتاط رہتے ہوئے کہا ہے جوبائیڈن کے الیکٹرول ووٹوں کی تعداد 279ہے جبکہ ان کے مدمقابل ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک214ووٹوں سے آگے نہیں بڑھ سکے ریاست الاسکا کے تین الیکٹرول ووٹ انہیں ملنے کا امکان ہے لیکن رقبے کے لحاظ سے بڑی اس ریاست کی آبادی دوردرازعلاقوں تک بکھری پڑی ہے اور موسم سرما میں الاسکا میں نقل وحمل انتہائی مشکل ہوجاتی ہے کیونکہ شدید برف باریوں سے ریاست مکمل طور پر سفید چادر اوڑھ لیتی ہے لہذا ابھی تک اس ریاست کے صرف50فیصد ووٹوں کی ہی گنتی مکمل ہوسکی ہے جس کے مطابق صدر ٹرمپ کو 62فیصد جبکہ جوبائیڈن کو 34فیصد ووٹ ملے ہیں .

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here