برطانیہ میں ایک سال کے دوران کتنے معصوم بچوں کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا؟تہلکہ خیزرپورٹ

0

لندن(اے ون نیوز) برطانیہ کے معروف اخبار دی سن کی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال برطانیہ میں ایک سال سے کم عمر کے 4 ہزار5 سو چار بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا جن کی عمر ایک سال سے بھی کم تھی۔

اعداوشمار کے مطابق ہر سات منٹ میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ترقی یافتہ ملک برطانیہ میں جنسی درندگی کے یہ واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں جس سے یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ معاشرہ اخلاقیات کے حوالے سے تنزلی کا شکار ہوتا جا رہا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی رپورٹ پر تشویش کا اطہار کیا ہے۔

یوکے میں پولیس نے گزشتہ دو برس کے دوران بچوںکی آن لائن جنسی استحصال پر 51 ہزار سے زائد مقدمات درج کئے تھے جبکہ رواں برس اس کی تعداد میں خوفناک حد تک 57 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پچھلے 12 مہینوں میں برطانیہ میں ایک سال سے کم عمر بچوں کے خلاف آن لائن بلیک ویب پر جنسی استحصال کے 449 واقعات سامنے آئے۔

آزادی اظہار رائے قوانین کے تحت این ایس پی سی سی کے ذریعہ حاصل کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ جنسی استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔14 سال کی عمر کے بچوں کے خلاف 8 ہزار سے زائد جنسی جرائم سامنے آئے۔ 10 سال سے کم عمر بچوں کے خلاف 12ہزار374 جنسی جرائم ریکارڈ کیے گئے جبکہ 449 بچوں کی ابھی پہلی سالگرہ بھی نہ منائی گئی تھی کہ انہیں جنسی حراسگی کا نشانہ بنا پڑا۔

این ایس پی سی سی کے چیف ایگزیکٹو پیٹر وان لیس نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کا بحران شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ ان اعدادوشمار کے پیچھے ہزاروں بچے اور نوجوان شامل ہیں ۔متاثرہ افراد کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادتیوں کو روکنے کے لئے فوری اقدام کی ضرورت ہے۔یہ اعداد و شمار پورے برطانیہ کے ہیں تاہم ان میں گریٹر مانچسٹر پولیس شامل نہیں ہے ،اس نے آزادی حصول معلومات کے تحت بھی اعداوشمار فراہم نہیں کئے۔

ایک 17 سالہ لڑکی نے خوفناک انکشاف کیا کہ وہ اب یہاں رہنا نہیں چاہتی،اس کا جنسی استحصال لاک ڈاو¿ن کے دوران ہوا ۔اس نے بتایا کہ لاک ڈاﺅن کے دوران گھر میں رہنے کی پابندی کے باعث اسے اپنے باپ کی بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔

این ایس پی سی سی حکومت سے گذشتہ سال جون میں اس وقت کے سکریٹری داخلہ ساجد جاوید کے ذریعہ اعلان کردہ بچوں سے جنسی زیادتیوں سے نمٹنے کے لئے اپنی حکمت عملی شائع کرنے پر زور دے رہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here