بھارت نے والد کی’معلومات چھپانے‘پرسلمان تاثیر کے بیٹے کی شہریت منسوخ کردی

0

نئی دہلی(اے ون نیوز) بھارتی حکومت نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے اور معروف غیر ملکی صحافی اور لکھاری آتش علی تاثیر کی شہریت ختم کردی۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آتش تاثیر کی اوورسیز سٹیزن آف انڈیا ( بھارت کے غیر ملکی شہری) کی حیثیت اس لیے ختم کی گئی کہ انہوں نے اپنی دستاویز میں یہ بات ظاہر نہیں کی کہ ان کے والد پاکستانی شہری تھے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ آتش تاثیر کو جواب یا اعتراض جمع کروانے کا موقع دیا گیا تھا تاہم انہوں نے نوٹس پر جواب نہیں جمع کروایا۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق 13 اگست کو جاری کیے گئے ایک نوٹس میں وزارت داخلہ نے کہا کہ آتش نے اپنے والد کی تفصیلات نہیں بتائیں جو پاکستان کے صوبے پنجاب کے گورنر تھے اور صرف اپنی والدہ کی معلومات فراہم کیں جو بھارتی صحافی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعدازاں 3 ستمبر کو انہیں ایک اور نوٹس جاری کیا گیا جس پر آتش تاثیر نے 6 ستمبر کو اپنا جواب جمع کروایا جس میں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کے والدین سلمان تاثیر اور تلوین سنگھ کی شادی نہیں ہوئی تھی اس لیے ان کی والدہ ان کی واحد سرپرست ہیں۔

نیویارک کے بھارتی قونصل خانے کو جمع کروائے گئے جواب میں آتش تاثیر نے بتایا کہ ان کے والدین کے درمیان تعلقات اس وقت استوار ہوئے جب وہ دونوں لندن میں رہائش پذیر تھے اور سلمان تاثیر برطانوی شہری تھے جن کے پاس برطانیہ کا پاسپورٹ بھی موجود تھا۔

آتش تاثیر کا جواب
اس ضمن میں آتش تاثیر نے ٹائم میگزین میں تحریر کیے گئے اپنے جواب میں بھارتی انتخابات کے وقت نریندر مودی کے خلاف لکھے گئے ایک میں مضمون اپنی شہریت منسوخی کی وجہ کی طرف اشارہ دیا جس میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنی تحریر میں انہوں نے بتایا کہ میرے والد سلمان تاثیر برٹش انڈیا میں پیدا ہوئے جن کی والدہ برطانوی تھیں جبکہ ان کے والد پاکستان بننے کے بعد پاکستانی بنے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں برطانیہ میں پیدا ہوا اور برطانوی شہری ہوں لیکن 2 سال کی عمر سے میں اپنی بھارتی والدہ کے ساتھ انڈیا میں رہائش پذیر تھا جو معروف صحافی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میری والدہ نے اکیلے میری پرورش کی اور وہی میری واحد سرپرست تھیں اور میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف انہی کو والدین کی شکل میں پایا۔

آتش تاثیر کا مزید کہنا تھا کہ وہ پاکستانی شہری نہیں اور ان کے والد سلمان تاثیر کے ساتھ ان کے تعلقات بھی پیچیدہ تھے اور بغیر شادی کے پیدا ہونے کی وجہ سے ان کا اپنے والد سے 21 سال کی عمر تک رابطہ نہیں ہوا تھا۔

بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آتش تاثیر بھارتی حکومت کی جانب سے شہریت منسوخ کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نریندر مودی کے خلاف مضمون کا تنازع
بھارتی ٹی وی این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی انتخابات کے وقت آتش تاثیر نے امریکی جریدے ٹائم میگزین کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں بھارتی وزیراعظم کو ’انڈیاز ڈیوائڈر ان چیف‘ کہا تھا جس کا عنوان تھا کہ ’کیا بھارت نریندر مودی حکومت کے مزید 5 سال برداشت کرسکتا ہے‘۔

مذکورہ مضمون کو بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیراعظم نریندر مودی کی کردار کشی کی کوشش قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ لکھاری نے پاکستانی ایجنڈے کی تکمیل کی ہے۔

جس کے جواب میں نریندر مودی نے خود ٹائم میگزین کو ایک خط کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹائم میگزین غیر ملکی ہے جبکہ لکھای کہہ چکے ہیں کہ ان کا تعلق پاکستان کے سیاسی گھرانے سے ہے جو ان کی ساکھ کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے‘۔

بھارتی حکومت کے مذکورہ اقدام پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ (سی پی جی) جرنلسٹس نے بھی تنقید کی۔

اپنے ردِ عمل میں سی پی جی کا کہنا تھا کہ’ایک تنقیدی آرٹیکل کے بعد صحافی کی شہری حیثیت کو نشانہ بنانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی کو تنقید اور آزادی صحافت برداشت نہیں‘۔

تاہم سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں بھارتی وزارت داخلہ کی ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ آتش تاثیر کی شہریت ان کے ٹائم میگزین کے لیے لکھے گئے مضمون کے باعث منسوخ کی گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here