بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ، اسلام آباد میں ریلیاں، قومی پرچم سرنگوں

0
31

اسلام آباد(اے ون نیوز) ملک کے مختلف شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی جا رہی ہے، کراچی سے خیبر تک عوام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وادی میں مظالم پر بھارت کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔ پاکستان کے عوام مظلوم کشمیریوں کی آواز بن گئے، شہر، شہر بھارت کیخلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ریلیوں اور تقاریب میں کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ فیصل آباد میں بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کاروباری مراکز بند ہیں۔

ننکانہ صاحب میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے نکالی گئی ریلی میں سکھ اور کرسچن کمیونٹی کے افراد بھی شریک ہوئے، ٹوبہ ٹیک سنگ، راجن پور اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جن میں سیاسی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

خیبرپختونخوا کے علاقے ٹانک میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے عمائدین علاقہ نے ریلی نکالی، سندھ میں حیدرآباد، کشمور اور دیگر علاقوں میں بھی شہریوں نے وادی میں مظالم پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف ڈیرہ بگٹی میں بھی ریلی نکالی گئی جس میں ایم این اے گہرام بگٹی اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے۔

بھارتی حکومت نے 5 اگست کو اٹھائے گئے حالیہ غیر آئینی اقدامات سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر کی انتہا کردی۔ مقبوضہ وادی میں کئی دہائیوں سے 7 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے اس کے باوجود مزید ایک لاکھ 80 ہزار بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر بھجوا دیئے گئے جنھوں نے پوری وادی کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ ہی کاٹ کر رکھ دیا۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام پر مظالم اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ذیلی اداروں کی حالیہ رپورٹس بھی مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک اور تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سب سے مستند ثبوت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر آفس کی حالیہ غیر جانبدارانہ رپورٹس ہیں۔ پاکستان پہلے دن سے ہی ان رپورٹس کی سفارشات کو تسلیم کر رہا ہے جبکہ بھارت مسلسل انکاری ہے۔

حکومت پاکستان کا 15 اگست کو یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تشویشناک صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے شدید خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here