تنقید کرنے والو کم از کم میری ماں اور بہن کو بخش دو،احمد گوڈیل

0

کراچی(اے ون نیوز)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 5ویں سیزن کی افتتاحی تقریب گزشتہ روز 20 فروری کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جسے لوگوں کا ملا جلا ردعمل موصول ہوا۔

ویسے تو سوشل میڈیا پر شائقین نے تقریب کی انتظامیہ سمیت کئی افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اگر اس موقع پر سب سے زیادہ کسی کا مذاق بنایا گیا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ آر جے احمد گوڈیل تھے جنہوں نے پی ایس ایل سیزن 5 کی میزبانی کی۔

عوام نے تقریب کے دوران آتش بازی کے شاندار مظاہرے کو پسند کیا البتہ احمد گوڈیل کی پرفارمنس کو ناپسند کیا گیا جبکہ کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ فخر عالم نے میزبانی کے فرائض انجام دے کر تقریب کو بچا لیا۔

کسی کی پرفارمنس پر تنقید کرنا یا کچھ حد تک ٹوئٹر کے لیے میمز بنانا تو شاید ٹھیک لیکن کسی کو پرفارمنس کے لیے برا بھلا کہنا یا پھر اس شخص کو ہراساں کرنا اور اس کے خاندان کے لیے نازیبا الفاظ بولنا یقیناً مناسب نہیں۔

اور احمد گوڈیل کے مطابق انہیں پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کے بعد سے لوگوں کی شدید نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔احمد گوڈیل نے سماء کے مارننگ شو ‘نیا دن’ میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی پرفارمنس پر ہونے والی تنقید پر بات کی۔

آر جے کے مطابق ‘میں پچھلے دو سال سے گراؤنڈ میزبان ہو اور میچ کی میزبانی کررہا ہوتا ہوں، کل مجھے موقع ملا کہ اس تقریب کی میزبانی کروں، مجھے نہیں اندازہ تھا کہ اتنا بڑا تنازع بن جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا کام صرف اور صرف یہ تھا کہ میچ کے دوران ناظرین کو محظوظ کرتا رہوں، ہم بچھلے تین دن سے ریہرسلز کررہے تھے، شو تاخیر سے شروع ہوا، میرا کام صرف یہ تھا کہ شو شروع ہونے سے قبل مجھے اسٹیج پر جاکر لوگوں سے بات چیت کروں اور انہیں محظوظ کروں اور پھر فخر عالم شو کی میزبانی کریں’۔

احمد گوڈیل کے مطابق ‘مجھے پتا تک نہیں تھا کہ میں لائیو ٹی وی پر نظر آرہا ہوں اور اصل میں تو میں اس تقریب کا میزبان تھا ہی نہیں، فخر عالم اس شو کے میزبان تھے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘لاکھوں کروڑوں لوگوں میں میرا انتخاب کیا گیا، لوگوں نے مجھے پی ایس ایل 4 میں پسند کیا تھا یہی وجہ ہے کہ اس سال بھی میں یہاں آیا’۔

اپنے کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احمد گوڈیل نے کہا کہ ‘آج سے 5 سال قبل کراچی کے ایک مال میں، میں مائیک پکڑ کر شو کرتا تھا، 3 بجے جاتا تھا اور 5 بجے واپس آتا تھا اور یہ مفت میں کرتا تھا، مجھے پیسے کی ضرورت نہیں، یہ میرا جنون ہے، میں اس کے بعد امریکا گیا، عاطف اسلم اور سونو نگم کا شو ہوسٹ کیا، میں واحد پاکستانی ہوسٹ ہوں جس نے بھارتی فنکار کے شو کی میزبانی کی’۔

انہوں نے تنقید کرنے والوں سے سوال کیا کہ ‘میری غلطی کیا تھی؟ کم سے کم آپ لوگ میری ماں اور بہن کو تو بخش دو، کیا میں نے اسٹیج پر بدتمیزی کی کسی کو گالی دی؟ میں نے غلط کیا کیا؟’

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں صرف ایک میزبان ہوں، مجھے اور کیا کرنا چاہیے تھا؟ کیا میں کپڑے اتار کر اسٹیج پر ڈانس کروں؟’احمد گوڈیل نے شو کے دوران اپنا موبائل فون بھی دکھایا اور بتایا کہ انہیں گزشتہ رات سے نامعلوم افراد فون کالز اور میسجز بھیج کر ہراساں کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کسی نے سوشل میڈیا پر ان کا نمبر لیک کردیا جس کے بعد سے انہیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کے مطابق ‘میں کوئی نامور شخصیت نہیں، میں صرف لوگوں کو محظوظ کرتا ہوں، مجھے یہ موقع ملا اور اس کی مجھے بےحد خوشی ہوئی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھ سے اتنی نفرت کی جائے’۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here