تیز چلنے والوں کی عمر زیادہ کیوں؟

0
48

لاہور(اے ون نیوز) محققین کو معلوم ہوا ہے کہ تیز پیدل چلنا دل کی صحت کے لیے اچھا ہے، لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس سے مجموعی صحت اچھی رہتی ہو؟ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔

ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تیز پیدل چلنے سے آپ کی عمر بڑھ سکتی ہے، چاہے آپ کا وزن زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس تحقیق میں کم وبیش چار لاکھ 75 ہزار افراد کی چلنے کی عادات اور اموات کا جائزہ لیا گیا جن میں زیادہ تر کی عمریں پچاس اور ساٹھ کے درمیان تھیں۔

یہ میو کلینک پروسیڈنگز میں شائع ہوئی۔ تیز چلنے سے مراد ہے کہ آپ تین میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں یا ایک منٹ میں 100 قدم اٹھائیں۔ اس سلسلے میں تحقیق میں حصہ لینے والے شرکا کے جواب پر اعتبار کیا گیا اور ان سے یہی پوچھا گیا کہ وہ ’’آہستہ رفتار‘‘ سے چلتے ہیں یا ’’تیز رفتار‘‘ سے؟ زیادہ عمر پانے والے تیز رفتار افراد کے وزن مختلف تھے اور نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ وزن چاہے کم ہو یا زیادہ، چلنے میں تیز رفتاری سے عمر بڑھ جاتی ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹرکے ڈاکٹر فرانسسکو زکارڈی کے مطابق نتائج یہ عندیہ دیتے ہیں کہ وزن کی نسبت جسمانی افعال طویل العمری پر زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ برطانیہ میں تیز چہل قدمی کرنے والی عورتوں کی عمر 87 برس کے لگ بھگ ہوتی ہے جبکہ سست رفتار عورتوں کی 72 برس۔ اسی طرح تیز قدم اٹھانے والے مرد 86 جبکہ سست چلنے والے 65 برس جیتے ہیں۔

یعنی اوسطاً عورتوں میں 15 اور مردوں میں 20 برس کا فرق ہے۔ ماہر غذائیات جمی ہیکی کے مطابق اس سے پتا چلتا ہے کہ تیز چلنے سے آپ کم درجے کی ایسی ورزش کر رہے ہیں جس سے دل کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور یہ باقاعدگی سے ہوتی ہے، اس سے دل مضبوط ہوتا ہے اور اس کی حالت بہتر ہوتی ہے۔پس اگر آپ کا وزن زیادہ ہو یا نہ ہو، تیز چلنے سے جسم اور عمر پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

موٹاپے کے خطرات سے بچاؤ

شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وزن میں اضافے سے دل کو درپیش خطرات سے تیز چہل قدمی ایک حد تک محفوظ رکھتی ہے۔ ماہر قلب ڈاکٹر نیکا گولڈ برگ کے مطابق حاصل کردہ نتائج تیز چہل قدمی سے متعلق گزشتہ تحقیقات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ رفتار کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کتنی دیر تک پیدل چلا جاتا ہے۔ زکارڈی کے مطابق تیز چلنے اور طویل العمری میں تعلق صرف جسمانی نہیں۔ چلنے کی عادت سے بہت سے غیر جسمانی اثرات پر قابو پایا جاتا ہے (جیسے نفسیاتی) جو عمر کی بڑھوتری کا سبب بنتے ہیں۔

وزن زیادہ کم نہیں ہونا چاہیے

دلچسپ امر یہ ہے کہ تحقیق میں جن افراد کا وزن سب سے زیادہ تھا ان کی عمر کی اوسط سب سے کم نہ تھی حالانکہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ وزن عمر میں کمی کرتا ہے۔

جن کا وزن کم تھا تاہم وہ نارمل ہی کے زمرے میں آتا تھا، ان کی عمر نسبتاً کم تھی۔ البتہ ایسا نہیں کہ انہیں تیز چہل قدمی سے فائدہ نہیں پہنچا۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ کم وزن والے افراد میں کسی بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ٹرینر نِک ریزو کے مطابق ہم یہ بات پہلے سے جانتے ہیں کہ سخت ورزش سے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اگر اس تصور کو تاعمر پیدل چلنے کے طریقے سے جوڑا جائے تو فوائد دو چند ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف اگر آپ کی عمومی صحت اچھی ہے تو آپ کا جسم بہتر کام کرے گا اور آپ میں زیادہ توانائی ہوگی جس سے فطرتاً آپ تیز چل پائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here