تین بچوں کو جنم دینے والی خاتون جسے آخر تک حمل کا علم نہیں ہوا

0
125

نیو یارک(اے ون نیوز)ایک خاتون جب حاملہ ہوتی ہے تو اس کا علم ایک یا دو ماہ بعد ہوجاتا ہے اور بچے کی پیدائش سے دو یا تین مہینے پہلے ارگرد موجود ہر شخص کو ماں کی جسمانی حالت سے یہ معلوم ہوجاتا ہے۔مگر کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی خاتون ماں بننے والی ہو اور وہ بھی ایک نہیں 3 بچوں کی، اسے پورے آٹھ یا نو ماہ تک علم ہی نہ ہو بلکہ ہسپتال میں کسی اور مرض کے علاج کے لیے جانے پر بچوں کی پیدائش ہوجائے؟

ایسا امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ ہوا جو معدے میں شدید تکلیف کے باعث ہسپتال گئی اور اس کا خیال تھا کہ گردے کی پتھری کے باعث اسے سرجری کی ضرورت پڑسکتی ہے، مگر وہاں انکشاف ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔دھنیٹی گیلٹس نامی خاتون کو ماضی میں بھی گردوں میں پتھری کی تکلیف کا سامنا رہ چکا تھا اور یہی وجہ تھی کہ ہسپتال میں اس کے علاج کے لیے گئی مگر وہاں 3 بچوں کو جنم دیا۔

مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خاتون نے کہا ‘مجھے شدید تکلیف کا احساس ہوا، مجھے لگا کہ یہ گردوں میں پتھری کی وجہ سے ہے کیونکہ مجھے پہلے بھی اس کا تجربہ ہوچکا تھا’۔ہسپتال میں پیشاب کا ٹیسٹ کرایا گیا اور پھر علم ہوا کہ یہ گردوں میں پتھری نہیں بلکہ وہ 34 ہفتوں کی حاملہ ہیں اور جڑواں بچوں کی پیدائش ہوگی، مگر وہ 3 نکلے۔

تینوں بچوں کی پیدائش 4 منٹ کے اندر ہوئی جو صحت مند تھے اور لوگوں کی جانب سے خاندان کو بچوں کے استعمال کی متعدد اشیا بھی دی گئیں۔اس جوڑے کے پہلے سے 2 بچے تھے اور اب نئے اضافے سے یہ 7 افراد کا خاندان بن گیا۔

خاتون کے مطابق ‘عام طور پر 3 بچوں کی پیدائش قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے سے نہیں ہوتی اور پھر 34 ہفتوں تک حمل کا علم بھی نہ ہوا، تو ہر ایک طرح مجھے بھی ڈاکٹروں سے یہ سن کر یقین نہیں آیا، ہم تو اب شاک میں ہیں، مین ڈاکٹر کے پاس گردوں کی پتھری کی سرجری کا سوچ کر گئی اور وہاں لیبروم میں آپریشن سے بچوں کی پیدائش ہوئی’۔

طبی ماہرین کے مطابق کچھ خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے اور ان میں حمل کی روایتی علامات سامنے نہیں آتیں اور اس کا انحصار جسم میں ہڈیوں کی ساخت پر ہوتا ہے یا جسمانی طور پر بھاری خواتین میں بھی پیٹ نکلنا زیادہ واضح نہیں ہوتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گردوں میں پتھری کی متعدد علامات زچگی سے ملتی جلتی ہیں جس کے دوران پہلو اور کمر میں شدید درد ہوتا ہے جو لہروں کی شکل میں پھیلتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here