تین سال کی ڈگری 9 ماہ میں حاصل کرنے والے بچے کا ریکارڈ

0

ہالینڈ(اے ون نیوز)نیدرلینڈ یونیورسٹی کا 9 سالہ طالب علم لورینٹ سائمنز جلد ہی الیکٹرک انجینیئرنگ کی تعلیم مکمل کرکے دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بننے جارہا ہے۔

نیوز سکائے کی رپورٹ کے مطابق لورینٹ سائمنز کے دوست اور اساتذہ انہیں بےحد ذہین کہتے ہیں، لورینٹ بیلجیئم کے شہر اوسٹینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ ہالینڈ میں آئینڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں الیکٹریکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں داخلے کے وقت ان کی عمر آٹھ برس تھی۔

یونیورسٹی میں موجود اساتذہ لورینٹ سائمنز کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ان کی یونیورسٹی میں آنے والے کسی بھی طالب علم سے بہت زیادہ ہوشیار ہیں۔لورینٹ یونیورسٹی میں الیکٹرک انجینیئرنگ کی تعلیم مکمل کررہے ہیں، انہوں نے 9 ماں میں کامیابی سے یہ ڈگری حاصل کرلی۔

عام طور پر کسی بھی طالب علم کو یہ ڈگری حاصل کرنے میں تین سال کا وقت لگتا ہے، لیکن لورینٹ جن کا آئی کیو بےحد زیادہ ہے وہ صرف 9 ماہ میں یہ ڈگری حاصل کرلیں گے۔

لورینٹ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ کرسمس کی چھٹیوں کا انتظار کررہے ہیں، جبکہ انہوں نے ڈگری حاصل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کرنے کا منصوبہ بھی کرلیا ہے ساتھ ساتھ وہ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے بھی خواہش مند ہیں تاکہ وہ مصنوعی اعضاء تیار کرسکیں۔

لورینٹ کے والد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ‘اس تعلیم ہی اس کے لیے کھیل ہے اور ہم اس سے خوش اور مطمئن ہیں’۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here