جب رئیلٹی شو میں خاتون کو ‘اپنا ریپ’ دیکھنے پر مجبور کیا گیا

0

میڈرڈ(اے ون نیوز)اسپین کے ایک رئیلٹی شو میں شریک خاتون کو اس کا اپنا ‘مبینہ ریپ’ دیکھنے پر مجبور کردیا گیا جس کے بعد کمپنیوں نے اس شو کے لیے اشتہارات نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

بگ برادر یا بگ باس کے اسپین میں نشر کیے جانے والے ورژن میں یہ واقعہ کارلوٹا پراڈو نامی خاتون کے ساتھ پیش آیا۔

اس خاتون کو ڈیری روم میں بھیج کر ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں شو میں شریک ایک شخص نے اس وقت ریپ کیا جب کارلوٹا بے ہوش تھیں۔

ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو دیکھتے ہوئے خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا ‘خدارا، اس کو روک دیں، پلیز’، مگر ویڈیو چلتی رہی اور ایک آواز نے کہا ‘ہمارے خیال میں آپ کو یہ دیکھنا چاہیے کارلوٹا’۔

شو کا یہ سین ٹی وی پر نشر نہیں کیا گیا مگر اسپین کے میڈیا میں اس بارے میں اطلاعات شائع ہوگئیں۔

اس کمرے میں جانے تک کارلوٹا پراڈو کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ایک رات پہلے ان کے ساتھ کیا ہوا تھا، کیونکہ بے ہوشی کے دوران جوز ماریہ لوپز نامی شخص نے انہیں بستر پر لٹایا تھا، جس کے ساتھ ایک گھر میں رہنے کے دوران خاتون نے تعلق بڑھایا تھا۔

فوٹیج کے مطابق جوز ماریہ لوپز نے ریپ کی کوشش کی جس کے بعد شو کی پروڈکشن ٹیم نے اسپیکر کے ذریعے مداخلت کی۔

خاتون کے ساتھ اس سلوک کا انکشاف ایک ڈیجیٹل اخبار ایل کانڈینشنل میں ہوا اور پھر شو کو اشتہارات دینے والی 40 سے زائد کمپنیوں نے رئیلٹی شو سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا۔

یہ شو 2000 سے مسلسل اسپین کے ایک ٹی وی پر نشر ہورہا ہے اور اسے بنانے والی کمپنی اینڈیمول شائن گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ بغیر کسی ماہر نفسیات یا کسی اور فرد کی موجودگی کے بغیر مبینہ ریپ کی ویڈیو دکھانا ایک غلطی تھی۔

بیان میں کہا گیا ‘ہم کارلوٹا کے ساتھ ڈیری روم میں ہونے والی گفتگو پر شرمندہ ہیں’۔جوز ماریہ لوپز کو شو سے نکال دیا گیا ہے کہ جبکہ متاثرہ خاتون کو اس کمرے کے تجربے کے بعد نفسیاتی مدد فراہم کی گئی۔

کارلوٹا نے کئی دن ہوٹل میں گزارے اور پھر شو میں دوبارہ واپس آئیں جبکہ پروڈکشن کمپنی اور پھر خاتون نے پولیس کے پاس اس واقعے پر جوز ماریہ لوپز کے خلاف شکایات درج کرائیں۔

تحقیقاتی جج نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر جوز لوپز کے خلاف جنسی حملے کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے تاہم ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے الزامات کی تردید کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here