خواجہ سرا پیدائشی طورپر نارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں دماغی بیماری کی وجہ سے وہ جنس مخالف رویہ اپناتے ہیں،عنصر جاویدخان

0

لاہور( محمد قیصر چوہان سے )برتھ ڈیفیکٹ فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا ہے کہ پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچے اور خواجہ سرا دونوں بالکل مختلف ہیں ،

حکومت نے خواجہ سرا کے حوالے سے تو قانون سازی کی ہے جس میں بہت سی میڈیکلی ،تکنیکی اور قانونی خامیاں موجود ہیں البتہ پیدائشی طور پر جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کے حوالے سے حکومت نے ابھی تک کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں کی ہے ،یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کیلئے بھی قانون سازی کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”اے ون نیوز “ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جدیدتحقیق کے مطابق”تیسری مخلوق “کاکسی بھی مذہب اور سائنس میں کوئی تصور نہیں ہے ،

قر آن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے کہ ”ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے“ لہٰذا کوئی تیسری مخلوق پیدانہیںکی ، لڑکی یا لڑکا پیدا ہوتا ہے البتہ پیدائش کے وقت مرداور عورتوں والے اعضاءنمایاں نہ ہونے کے سبب لوگ انہیں ”تیسری مخلوق ،ہیجڑا ، کھسرا ،خواجہ سرا “کے ناموں سے منسوب کر دیتی ہے حالانکہ ایک اچھے اینڈ وکرائنالوجسٹ ڈاکٹرکے علاج کے بعد ایک ماہر سرجن سے آپریشن کے ذریعے ان کی جنس واضح کر دیتا ہے ،

عوام الناس کیلئے یہ سمجھنا بہت ہی ضروری ہے کہ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کو میڈیکل کی زبان میں انٹرا سیکس کہتے ہیں آپریشن کے ذریعے جنس تبدیل نہیں بلکہ واضح ہوتی ہے کیونکہ پیدائش کے وقت بعض بچوں کی جنس واضح نہیں ہوتی جبکہ بعض میںلڑکا اور لڑکی دونوں کے ہی اعضاءہوتے ہیں اس صورت میں ایک ماہر سرجن آپریشن کے ذریعے کارآمد عضو کو رکھ کر دوسرے اعضاءکو نکال دیتا ہے مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ کوئی بھی سرجن ڈاکٹر کسی انسان کی جنس تبدیل نہیں کرتا بلکہ آپریشن کے ذریعے جنس واضح کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیدائش کے وقت بچے کو دی ہوتی ہے ۔

ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن نے سرجری کے ذریعے 146 بچوں کی جنس درست کر چکی ہے، برتھ ڈیفیکٹس فاﺅنڈیشن پاکستان کا واحد آرگنائزیشن ہے جو جنس واضح نہ ہونے والے بچوں اور ٹرانسجینڈر(خواجہ سرا) کا علاج بالکل مفت کرتی ہے ۔ایک سوال کے جوب میں عنصر جاوید خان نے کہا کہ ٹرانسجینڈر (خواجہ سرا ) سرجری کے ذریعے جنس تبدیل نہیں کرواسکتے ہیں کیونکہ خواجہ سرا پیدائش کے وقت سو فیصد نارمل لڑکا یا لڑکی ہوتے ہیں لیکن پھر چار سال کے بعد ان کے دماغ میں پیدا ہونے والے مادہ انہیں جنس مخالف کا رویہ اپنانے پر مجبور کر دیتا ہے اور پھر ایک نارمل لڑکا خود کو لڑکی سمجھنے لگتا ہے جبکہ نارمل لڑکی خود کو لڑکا سمجھ کر زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں ،یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے ایسے لوگوں کو سرجری کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی ان کا علاج ایک ماہر نفسیات چھے مہینے کے اندر کر سکتا ہے،

بارہ سال کی عمر سے قبل اس بیماری کا علاج آسانی کیساتھ ہو جاتا ہے لیکن اس کے بعد مریض کے تعاون کے بغیر علاج ممکن نہیں ہوتا۔برتھ ڈیفیکٹ فاﺅنڈیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف سائیکالوجسٹ عنصر جاوید خان نے کہا کہ جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کوسب سے بڑا مسئلہ نادرا میں اپنی جنس کی درست شناخت کے اندراج کا درپیش آتاہے،کیونکہ والدین پیدائش کے بعد جنس کے تعین کو خود سے ہی اپنے اندازے کے مطابق منسوب کر دیتے ہیںاور (ب )فارم پر کسی ماہر ڈاکٹر کی تصدیق کے بغیر ہی بچے کے نام کا اندراج کروا دیتے ہیںاور جب سرجری کے بعد درست جنس سامنے آتی ہے تو نادرا کے ریکارڈ میں ان بچوں کی درست جنس کے حوالے سے والدین کوبے پناہ مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے،

لہٰذاوفاقی حکومت جنس واضح نہ ہونے والے بچوںکے حوالے سے قانون سازی کرے اورنادرا قوانین میں بھی تبدیلی کرے تاکہ ایسے بچے بھی باعزت شہریوں کی طرح نادرا ریکارڈ میںاپنی درست جنس کا اندراج کروا سکیں۔ عنصر جاویدخان نے کہاکہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو چاہئے کہ وہ پیدائشی طور جنس واضح نہ ہونے والے بچوں کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here