دنیا میں پہلی بار بیک وقت پیدا ہونے والے 7 بچے اب کیسے ہیں؟

0
48

نیو یارک(اے ون نیوز)کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک وقت میں سب سے زیادہ بچے جنم دینے (جو سب زندہ بھی بچ گئے)کا ریکارڈ کس خاتون کے پاس ہے ؟اگر نہیں تو جان لیں کہ وہ نادیہ سلیمان نامی ایک امریکی یہودی خاتون ہیں جنھوں نے جنوری 2009 میں 8 بچوں کو بیک وقت جنم دیا جو سب زندہ بھی بچ گئے۔مگر ان سے پہلے یہ ریکارڈ امریکا کی ہی بوبی میککوفی کے پاس تھا جنہوں نے نومبر 1997 میں 7 بچوں کو جنم دیا اور پہلی بار یہ ایسے 7 بچے تھے جو زندہ بچ گئے اور ایک ساتھ پرورش پاکر اب 21 سال کے ہوچکے ہیں۔

امریکی ریاست آئیووا سے تعلق رکھنے والے کینی اور بوبی میککوفی کے ہاں پہلے ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی اور وہ بس ایک اور بچے کے خواہشمند تھے تاکہ خاندان مکمل ہوسکے، مگر اس کوشش کے نتیجے میں انہیں بہت بڑا سرپرائز ملا۔بچے کی خواہش کے لیے وہ ڈاکٹر سے فریٹلیٹی ٹریٹمنٹ کروا رہے تھے اور ایک معمول کے چیک اپ کے دوران جب اسکین کیا گیا تو ڈاکٹر اس کا نتیجہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

درحقیقت الٹرا ساﺅنڈ سے انکشاف ہوا کہ اس جوڑے کے ہاں 7 بچوں کی پیدائش ہورہی ہے، ویسے تو فریٹلیٹی ٹریٹمنٹ کے دوران جڑواں یا 3 بچوں کی پیدائش کافی عام ہے مگر 7 بچے انتہائی غیرمعمولی ثابت ہوئے اور جوڑے کو یہ مشکل فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ان کی پیدائش چاہتے ہیں یا بوبی کو موت کے منہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔بوبی کے مطابق ‘میں نے اپنی بیوی کو فون کیا اور الٹرا ساﺅنڈ اسکین کے نتائج کے بارے میں معلوم کیا، تو اس کی آواز عجیب سی ہوگئی اور جو اس نے کہا مجھے سمجھ نہیں آیا، میں نے اسے کہا کہ صاف الفاظ میں بتائے تو اس کا جواب تھا 7، اس لمحے مجھے بس یہ خیال آیا کہ آخر اتنے بچوں کو کیسے کھلائیں گے اور ان کی ضروریات کیسے پوری کریں گے، پھر میں نے کہا کہ نہیں، نہیں، نہیں، نہیں، کیا تم سنجیدہ ہو؟’

بوبی کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کچھ جینین کو ختم کروا دیا جائے تاکہ دیگر بچوں کے بچنے کا امکان پیدا ہوسکے، مگر بوبی نے اس کو مکمل طور پر مسترد کردیا اور تمام بچوں کی پیدائش کا فیصلہ کیا۔ماہرین کے مطابق 3 بچوں کی پیدائش میں بھی ایک صحت مند بچے کا امکان 50 فیصد ہوتا ہے جبکہ لگ بھگ 50 فیصد کے قریب جڑواں یا اس سے زائد بچوں کی پیدائش کی کوشش اسقاط حمل پر ختم ہوتی ہے۔

تاہم بوبی میککوفی اس حوالے سے خوش قسمت ثابت ہوئیں، ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ وہ بچ نہیں سکیں گی مگر کچھ بھی غلط نہیں ہوا اور 21 نومبر 2017 کو 4 لڑکوں اور 3 لڑکیوں کو جنم دیا، جن کی پیدائش مقررہ وقت سے 9 ہفتے قبل آپریشن کے ذریعے ہوئی، جبکہ وہ ہسپتال میں 2 ماہ تک رہے۔بچوں کی گھر آمد کے بعد ماں کو ان کی پرورش کے لیے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوا کیونکہ ان بچوں کو روزانہ خوراک کی 42 بوتلیں اور 52 ڈائیپرز کی ضرورت پڑتی تھی۔

اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے اس خاندان کو مدعو کرکے مبارکباد دی جبکہ این جی اوز نے اس خاندان کو 2 سال کے لیے ڈائیپرز، بہت زیادہ خوراک، ایک بڑا گھر اور آئیووا کے کسی بھی کالج میں مفت تعلیم کی ضمانت دی۔
مگر ہر ایک اس خاندان کو سپورٹ نہیں کرتا تھا، ان کو ملنے والے خطوط میں ایسے خط بھی ہوتے تھے جس میں ان پر بچوں کے استحصال اور دنیا کے وسائل کے ضیاع کا الزام عائد کیا جاتا۔

ان 7 میں سے 2 بچے دماغی فالج کا شکار تھے اور ان کی متعددد سرجری ہوئی جس کے نتیجے میں اب وہ کسی کی مدد کے بغیر چل سکتے ہیں۔ان بچوں کے ابتدائی برسوں میں رضاکاروں نے اس خاندان کی مدد کی اور وقت گزرنے کے ساتھ والدین کو آخرکار ڈائیپرز کی ضرورت نہیں رہی اور کچھ وقت ملا تو بوبی نے پارٹ ٹائم ملازمت شروع کردی۔

جب بچے کچھ بڑے ہوئے تو وہ بوبی کی مدد کرنے لگے ‘بچیاں کچن میں بہت زیادہ مدد کرتیں، انہیں کھانا پکانے میں دلچسپی تھی اور کھانے کے قابل بنا بھی لیتی تھیں، جبکہ لڑکے لان سے پتے صاف کردیتے یا گاڑی کو دھو دیتے’۔
جب بچے 10 سال کے ہوئے تو ہر ہفتے 11 لیٹر دودھ، 6 پیکٹ سریلز اور بہت زیادہ بریڈ کی ضرورت پڑتی جبکہ ان کے گھر میں 2 اوون ، 2 مائیکرو ویو اوون، 2 ڈش واشر، 2 واشن مشینیں اور ڈرائیرز تھیں جبکہ گھر کے احاطے میں سبزیاں اگائی جاتیں۔

یہ سب بچے تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے، جن میں سے 4 نے یونیورسٹی کا رخ کیا، ایک کالج گیا جبکہ ایک نے فوجی کیرئیر کا انتخاب کیا اور اب بہت جلد شادی کرنے والا ہے۔آسان الفاظ میں سب نے اسکول سے گریجوٹ کیا اور اب کینی اور بوبی نے ایک چھوٹے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ 7 کمروں کا گھر جہاں ان کے بچے پلے بڑھے، نوجوان ماﺅں کی مدد کرنے والے ایک ادارے کو دے دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here