ریتھک روشن نے اپنی بہن کو مسلم لڑکے سے شادی کی خواہش پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

0
125

نئی دہلی (اے ون نیوز) بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کرنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی۔بھارت کے وزیراعظم سے لے کر وہاں کے تمام لوگوں (ہندوؤں) کے دلوں میں مسلمانوں کے لیے بے انتہا نفرت پائی جاتی ہے۔ابھی کچھ عرصہ قبل ہی بھارت میں ایک لڑکی کو مسلم لڑکے سے دوستی کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جب کہ بالی وڈ فلمسٹار ارمیلا ماٹونڈکر کو بھی مسلم لڑکے سے شادی کرنے کے بعد تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ اسلام قبول کر چکی ہیں۔

تاہم حال ہی میں ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جو بھارت کی شوبز انڈسٹری میں بھی انتہاپسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بالی وڈ کے معروف اداکار ریتھک روشن کی بہن مسلمان لڑکے سے شادی کرنے کا ارادہ کرنے کے بعد اپنے والد راکیش روشن اور بھائی ریتھک روشن کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بن گئیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ہدایت کار راکیش روشن اور ریتھک روشن نے مسلم لڑکے سے شادی کرنے کا ارادہ رکھنے پر اپنی بہن سنینا روشن پر تشدد کیا اور انہیں جیل بھجوانے کی بھی کوشش کی۔

۔سنینا نے اس حوالے سے بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو بھی دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ میرے والد نے مجھے تھپڑ مارا اور اس موقع پر ان کے بھائی ریتھک روشن نے بھی ساتھ نہ دیا۔سنینا کا کہنا تھا کہ والدین نے میرے اخراجات بھی محدود کر دئیے ہیں۔ریتھک روشن نے مجھے گھر سے الگ کیا اور مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بعد وہ مجھے الگ گھر لا کر دیں گے تاہم بعد میں وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے جس کے بعد میں کرائے کا گھر لے کر رہنے پر مجبور ہوں۔

سنینا کا کہنا ہے کہ مسلمان صحافی روحیل امین سے محبت کرنے کی وجہ سے میرے والد نے مجھ پر تشدد کیا اور کہا کہ مسلمان دہشت گرد ہوتے ہیں۔اگر روحیل امین دہشت گرد ہوتے تو وہ بھارت میں صحافی کیسے بنتے۔سنینا نے اپنے اور روحیل کے درمیان رشتے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال سوشل میڈیا پر ان کی رورحیل امین سے دوستی ہوئی تھی۔چونکہ میرے والد اور بھائی مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے اس ڈر کی وجہ سے میں نے روحیل کا فون نمبر بھی چھپا رکھا تھا۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ گھر والوں کو اس متعلق پتہ چلے۔سنینا کا کہنا ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں دوزخ میں رہ رہی ہوں۔سنینیا کا مزید کہنا تھا کہ میرے والد کہتے ہیں کہ مجھے جس لڑکے سے محبت ہے وہ دہشت گرد ہے۔اگر وہ واقعی دہشت گرد ہے تو پھر وہ سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ہے وہ آزادنہ طور پر میڈیا میں کیسے کام کر رہا ہے؟۔سنینا کا کہنا ہے کہ میں گذشتہ دنوں والدین نے پیسے مانگے تو انہوں نے انکار کر دیا کیا میرا حق نہیں بنتا کہ میرے والدین مجھے خرچ مہیا کریں۔

سنینا نے کہ مجھے نہیں معلوم روحیل سے شادی کروں گی یا نہیں تاہم اس وقت میں صرف اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔جب کہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے سنینا کے حق میں ٹویٹس کیے ہیں اور کہا ہے کہ سنینا ایک بہادر خاتون ہیں انہیں تمام حالات کا مقابلہ کرنا چاہئیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here