سابق مس ایران نے فلپائن میں پناہ لے لی

0

لندن(اے ون نیوز)فلپائن نے سابق ‘مس ایران’ بہارہ زارا بہاری کی جانب سے دی گئی پناہ کی درخواست کو منظور کر لیا جو گزشتہ ایک ماہ سے زیر حراست ہیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق فلپائن کے سیکریٹری انصاف اور ترجمان مارک پیریٹ کا کہنا تھا کہ سابق مس ایران کو منیلا کے نینوئے آکوئینو انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتاری کے تقریباً ایک ماہ بعد ملک میں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بہارہ زارا بہاری 18 اکتوبر کو دبئی سے چھٹیاں منانے منیلا پہنچی تھیں جہاں انہیں ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی کیونکہ انٹرنیشنل پولیس (انٹرپول) کی جانب سے ان کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

مارک پیریٹ کا کہنا تھا کہ ‘میں تصدیق کرتا ہوں کہ ان کی پناہ کی درخواست کی منظوری دی گئی ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ بہارہ کو تاحال ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے یا نہیں تاہم امیگریشن بیورو نے ان کی درخواست کے مطابق دستاویزات کی تیاری شروع کردی ہے’۔

فلپائن کے بیورو آف امیگریشن کا کہنا تھا کہ بہارہ کو فلپائن کے شہر ڈیگوپان میں مبینہ طور پر تشدد کے واقعے اور بیٹری کیس میں انٹرپول کے ریڈ نوٹس کی بنیاد پر ایئرپورٹ کے ٹرمینل نمبر 3 میں گزشتہ ماہ روکا گیا تھا۔

بہارہ زارا بہاری نے کسی قسم کی غلطی کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف تمام مقدمات جعلی ہیں اور میں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر مجھے ایران واپس بھیج دیا گیا تو مجھے قتل کردیا جائے گا یا پھر قید میں ڈالا جائے گا۔

انہوں نے ایرانی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں حکومت انہیں نشانہ بنائے گی کیونکہ وہ اپوزیشن سیاست دان کی حمایت کر رہی ہیں اور روایتی اقدار کے خلاف مقابلہ حسن میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

سابق مس ایران نے کہا کہ انہیں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بات کرنے پر بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔بہارہ زارا بہاری نے گزشہ ماہ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘اگر فلپائن سے انہیں واپس ایران ڈی پورٹ کردیا گیا تو وہ مجھے کم از کم 25 سال قید سنا کر جیل بھیج دیں گے بشرطیکہ مجھے قتل نہیں کیا گیا ہو’۔

یاد رہے کہ بہارہ زارا بہاری رواں برس جنوری میں ایران کے حزب اختلاف کے رہنما اور نیشنل کونسل ایران کے بانی رضا پہلوی کی تصویر تھامے مقابلہ حسن میں نمودار ہوئی تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here