سعودی عرب میں کفیل کو قتل کرنے والی بھارتی ملازمہ گرفتار

0

جدہ(اے ون نیوز)انکشاف ہوا ہے کہ ایک ماہ قبل معمر شہری کے کمرے میں لگنے والی آگ حادثہ نہیں بلکہ انڈین ملازمہ کی سازش کا نتیجہ تھی جس کے تحت اس نے اپنے کفیل کو قتل کرکے ایک لاکھ 20 ہزار ریال چوری کیے تھے۔سبق ویب سائٹ کے مطابق گھر والوں سمیت پولیس کو بھی اس وقت ملازمہ پر شک نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کی فائل بند کردی گئی تھی۔

مجمعہ میں سعودی خاندان نے ایک 70 سالہ شہری کی دیکھ بھال کے لیے انڈین ملازمہ کی خدمات حاصل کیں۔ جس نے بزرگ کا بہت اچھی طرح خیال رکھا۔بزرگ سمیت گھر والے بھی اس سے خوش تھے۔ اس کی خدمات کو سراہتے ہوئے کفیل نے اس سال اسے اپنے خرچے پر حج کرانے کا بھی وعدہ کر لیا۔

اس اثنا میں ملازمہ نے معمر شہری کے معمولات کا جائزہ لیا۔ سونے، جاگنے اور کمرے سے باہر رہنے کے اوقات اسے معلوم ہوگئے۔ اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگ نے اپنے کمرے میں ایک لاکھ 20 ہزار ریال رکھے ہوئے ہیں۔

ملازمہ نے معمر سے خلاصی حاصل کرنے کے ساتھ رقم چوری کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ ایک دن بزرگ کی غیر موجودگی میں رقم پر ہاتھ صاف کرلیا۔جب بزرگ سو رہے تھے اور گھر میں کوئی نہیں تھا، اس نے کمرے میں اس طرح آگ لگا دی گویا پہلی نظر میں اندازہ ہو کہ آگ خود بخود لگی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے آگ پورے کمرے میں لگ گئی اور اس کے نتیجے میں بزرگ کا انتقال ہوگیا۔محکمہ شہری دفاع نے آگ پر قابو پالیا اور بزرگ کی ہلاکت کی وجہ سے کیس پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولیس نے اپنی تفتیش کا آغاز کیا۔ خادمہ سمیت تمام گھر والوں سے معلومات حاصل کیں مگر آتشزدگی کے اسباب تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ گھر والوں نے کسی پر شک کا اظہار نہیں کیا تو پولیس نے اسے حادثہ قرار دے کر فائل بند کر دی۔

ایک مہینہ سکون سے گزر گیا مگر اس کے بعد ملازمہ کی رویہ میں واضح تبدیلیاں نظر آنے لگیں۔ اس نے مہنگی اشیا خرید کر واپسی کی تیاری شروع کر دی۔پھر ایک دن جب ملازمہ کے چند جاننے والے افراد اسے گاڑی میں لینے کے لیے آگئے تو ملازمہ نے چند بڑے سوٹ کیس ان کے حوالے کیے۔

گھر والوں کو شک ہوا، پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کیا تو ملازمہ گھبرا گئی۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی جس کے آتے ہی خادمہ نے سب کچھ اگل دیا۔اس نے سب کے سامنے اعتراف کیا کہ ایک لاکھ 20 ہزار کے لالچ میں آکراس نے رقم چوری کی اور پھر کمرے میں آگ لگا دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ رقم بھی آگ میں جل گئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here