سپریم کورٹ،قتل کے الزام میں گرفتار 7 ملزمان شک کی بنیاد پر بری

0
34

اسلام آباد(اے ون نیوز) سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قتل کے الزام میں گرفتار 7 ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کردیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفرق کیسز کی سماعت کی۔

ڈکیٹی کرنے اور اس دوران محمد اشرف نامی شخص کے قتل کے مقدمات کی سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس اور مدعی پارٹی نے مل کر کہانی ترتیب دی۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم 14 گھنٹے کی تاخیر سے کیا گیا جبکہ گواہان کو بعد میں خود سے بنایا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر ڈکیتی کے مقدمات میں علاقے کی پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ واردات کس نے کی۔چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ ’لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ ملزمان پہلے کسی قسم کی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے۔‘

انہوں نے ریمارکس دیے کہ 2 واقعات ہوئے جن میں ایک ڈکیٹی جبکہ دوسرا قتل کا ہے، ملزمان ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے جائے وقوعہ پر پہنچے لیکن سائیڈ پلان میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ملزمان کے وکیل نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کا مدعی کے ساتھ کسی قسم کا اختلاف نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مدعی کے بھائی کا قتل ہوگیا، اسے معلوم نہیں کہ ایف آئی آر درج کروانی ہے۔انہوں نے واقعے سے متعلق ریماکس دیے کہ عجیب بات ہے کہ ملزمان ڈکیتی کے دوران شناختی کارڈ اور بجلی کا بل بھی اپنے ساتھ لے گئے، آج کل تو مہنگائی کی وجہ سے مالک کو بجلی کا بل بھرتے ہوئے مشکل ہوتی ہے اور ڈاکو بل بھرنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کردیا۔خیال رہے کہ مذکورہ واقعہ 2004 میں قصور میں پیش آیا تھا، تاہم ٹرائل کورٹ نے ساتوں ملزمان امجد علی، محمد خالد ظفر اقبال، عبد القیوم، منظور احمد، محمد طارق اور محمد اکرم عرف ڈاکو کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی، جبکہ ہائی کورٹ نے ملزمان کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔

سزائے موت کے منتظر مجرم کی سزا عمر قید میں تبدیل
ایک علیحدہ سماعت کے دوران مجرم سیف اللہ کی سزائے موت کو سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کردیا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے زمین کے تنازع پر 2 بھائیوں اور بھابی کے قتل کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران مقتولین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ وقعہ زمین کے تنازع پر ضلع بھکر میں پیش آیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس میں فریقین کے درمیان صلح ہوئی تھی، اس صلح نامے میں کون کون شامل تھا جس پر ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نسیم بی بی انتقال کرگئیں تھیں جبکہ ان کے ورثا نے ملزمان کو معاف کردیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بھارتی قانون میں ترمیم کرکے ورثا کے ورثا کی صلح کو قابل قبول بنایا گیا ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کو تجویز دی ہے کہ اس قانون میں ترمیم کی جائے۔انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ پاکستانی قانون کے مطابق ورثا کے وارث صلح نہیں کر سکتے۔

مقتولین کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مجرم سیف اللہ اور اس کے بهائیوں کے درمیان زمین کی تقسیم کا تنازع تها۔اس نے عدالت کو بتایا کہ مجرم سیف اللہ نے جھگڑے کے دوران پہلے ایک بھائی پر فائر کیا، دوسرا بھاگا تو اس کے پیچھے جاکر اس پر بھی فائرنگ کردی اور مجموعی طور پر تین افراد اس واقعے میں قتل ہوئے۔

وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس جھگڑے کے دوران مجرم کے بھائی کی اہلیہ نسیم بی بی بهی زخمی ہوگئیں تھیں جو ایک ماہ بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں تھیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر زخمی متاثرہ شخص کیس کی پیروی کے لیے پیش نہ ہو تو سزا نہیں ہوسکتی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجرم سیف اللہ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔

خیال رہے کہ 2 بھائیوں کے قتل کے مجرم سیف اللہ کو ٹرائل کوٹ نے سزائے موت سنائی تھی، تاہم جب اس کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تو اس نے سزا معطلی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے برقرار رکھا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here