کرتارپورراہداری کا افتتاح،مسئلہ کشمیرحل ہوا توبرصغیرمیں بڑی خوشحالی آئیگی،وزیراعظم عمران خان

0

نارووال(اے ون نیوز) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کرتار پور راہداری منصوبہ اتنا جلد مکمل ہو جائے گا، ایف بی ڈبلیو او نے جلد منصوبہ مکمل کیا ہے۔ مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی باصلاحیت ہے۔

کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سکھ برادری کو خوش آمدید کہتا ہوں، بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ پر مبارکباد دیتا ہوں، سدھونے دل سے شاعری کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ربّ انسانوں کا خدا ہے، ہمارے نبی ﷺ سارے انسانوں کے لیے رحمت بن کر ائے، اللہ کے پیغمبرانسانیت کے لیے پیغام لیکرآئے،نیلسن منڈیلا کو ہمیشہ لوگ یاد رکھیں گے، انہوں نے انسانیت کے لیے بہت بڑا کام کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جلد میں نے وزارت عظمی کا حلف اٹھایا تو سب سے پہلے بھارت کو امن کا پیغام بھیجا، نریندر مودی نے ہماری پیشکش کو قبول نہیں کیا،

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے وہ بہت افسوسناک ہے، وہاں وادی میں موجود 80 لاکھ لوگوں پر 9 لاکھ فوج تعینات کی گئی ہے، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، یہ زمین کا مسئلہ نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں تاکہ لوگ انسانوں کی طرح رہ سکیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ سکھوں کے لیے بہت اہم مقام ہے، یہاں وہ بغیر ویزے آ سکتے ہیں، یہ ہندوستان کے سکھ کے لیے بڑا تحفہ ہے، مجھے امید ہے کہ یہ ایک شروعات ہے، انشاء اللہ ایک دن ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ جو نفرتیں 70 سال سے اس مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ جرمنی اور فرانس جس نے بہت جنگیں لڑیں آج امن ہے، وہاں جنگ کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، دونوں ممالک میں تجارت کھولی ہے، سرحدیں کھولی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہوا تو برصغیر میں بہت بڑی خوشحالی آئے گی، انشاء اللہ مجھے یقین ہے کہ یہ دن دور نہیں ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے امن کی نئی راہیں کھول دیں۔ کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں بھارتی سیاستدان نوجوت سدھو، سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ، موجودہ وزیراعلیٰ بھارتی پنجاب اور اداکار اور بی جے پی کے سیاستدان سنی دیول نے بھی شرکت کی۔

کرتار پور زیرو پوائنٹس کے گیٹ سے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ سکھ یاتریوں کا وفد پہنچا جسے پاکستانی حکام نے خوش آمدید کہا، بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ بھی پاکستان پہنچے۔ سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ آج سکھ برادری کیلئے بہت بڑا دن ہے، راہداری کھولنے سے پاک بھارت تعلقات میں نمایاں بہتری آئیگی۔

بھارتی سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جیسے لوگ تاریخ بنایا کرتے ہیں۔

سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جیسے لوگ تاریخ رقم کرتے ہیں، عمران خان آپ کو احساس نہیں کہ سکھ قوم آپ کو کہاں لے جائے گی، کرتار پور راہداری سکھ قوم پر احسان ہے، عمران خان وہ سکندر ہیں جو لوگوں کے دلوں میں راج کرتے ہیں، آپ نے سکھ قوم کے دلوں کو فتح کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکھوں کی 4 نسلیں اپنے باپ کے گھرآنے کو ترستی رہیں، سکھ دنیا میں عمران خان کے ترجمان بن کر جائیں گے، تقسیم ہند کے بعد پہلی بار یہ تاریں آج گری ہیں، اس سے بڑی مرہم تاریخ میں کبھی نہیں رکھی گئی، 72 سال میں سکھوں کی آواز کسی نے نہیں سنی تھی، تقسیم ہند کے بعد پہلی بار پاک بھارت سرحد کی رکاوٹیں ختم ہوئیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا یہ ابھی شروعات ہیں اور اچھی شروعات ہیں، 70 سال سے کھلے درشن کی ہماری مانگ رہی ہے۔ سابق بھارتی اپوزیشن لیڈر نے بھی پاکستانی اقدامات پر شکریہ ادا کیا، سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد بھی کرتار پور راہداری کھلنے پر پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سلام پیش کر رہی ہے۔

دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری کرتارپور پہنچے کرتارپور جانے والی شاہراہوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے، کرتار پور راہداری کے موقع پر ضلع بھر میں مقامی تعطیل ہے، 11 ماہ کی ریکارڈ مدت میں کرتارپور راہداری منصوبہ کی تعمیر مکمل کی گئی۔

خطے میں امن کیلئے وزیراعظم کی ہدایت پر تعمیر کئے گئے کرتار پور رہداری منصوبے کے اخراجات پاکستان نے ادا کیے، پاک بھارت معاہدے کے مطابق منصوبہ مرحلہ وار مکمل ہوگا، ابتدائی مرحلے میں پل اور سرنگ سمیت عمارت تعمیر کی گئی ہے، دوسرے مرحلے میں عمارت کی توسیع، یاتریوں کیلئے رہائشگاہیں تعمیر ہوں گی، کرتار پور آنیوالے یاتریوں کی سہولت کیلئے بازار بھی قائم کیا جائے گا۔

کرتارپور راہداری منصوبے کیلئے 800 ایکڑ اراضی مختص کی گئی، 104 ایکڑ مرکزی عمارت اور صحن کیلئے استعمال کی جا رہی ہے، 36 ایکڑ شجرکاری، پھلوں کے باغات، سبزیوں و دیگر فصلوں کیلئے وقف ہے، باقی زمین پل، سرنگوں اور راہداریوں کیلئے استعمال میں لائی گئی ہے، منصوبے سے پہلے گوردوارہ محض 4 ایکڑ تک محدود تھا۔

یاتری سرحد پر موصول، بائیو میٹرک اندراج کیلئے ٹرمینل لایا جائے گا، بائیو میٹرک اندراج کے بعد یاتریوں کو بسوں کے ذریعے گوردوارہ لایا جائے گا، پیدل گوردوارہ جانیوالے یاتریوں کیلئے الگ راہداریاں تعمیر کی گئی ہیں، یاتریوں کو سامان محفوظ رکھنے کیلئے داخلی مقامات پر تجوریاں مہیا کی جا رہی ہیں، مرکزی گوردوارے میں جگہ کی قلت کے پیش نظر اضافی دیوان بھی تعمیر کیا گیا ہے، اضافی دیوان کی تعمیر سے رہ جانیوالے یاتریوں کو عبادت کیلئے جگہ مہیا ہوگی۔

تعلیم و آگاہی مقاصد کے پیش نظر کتب خانہ، عجوبہ خانہ تعمیر کیا گیا ہے، گوردوارے میں بڑا مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے، لنگر خانہ ایک وقت میں 2500 یاتریوں کو کھانا مہیا کرنے کی استعداد رکھتا ہے، لنگر خانہ ابتدائی 10 روز کے دوران یاتریوں کو مفت کھانا فراہم کرے گا، گوردوارے میں بیت الخلا کی تعمیر، فلٹریشن سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے، ابتدائی مرحلے میں بھارتی یاتری شام کو واپسی کے پابندہوں گے۔ گوردوارہ پورا سال کھلا رہے گا، یاتری جب چاہیں دربارصاحب آسکیں گے۔

واضح رہے 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

چودہ مارچ کو اٹاری کے مقام پر پاکستان اور بھارت کے وفود کی سطح پر پہلے مذاکرات ہوئے اور 14 جولائی کو کرتار پور راہداری کے حوا لے سے واہگہ کے مقام پر اجلاس ہوا، دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیموں میں تین سے زائد ملاقاتیں ہوئیں اور انفراسٹرکچر پر اتفاق کیا گیا۔

تیس ستمبر کو پاکستان نے سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی لیکن فی یاتری 20 ڈالرز فیس کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔ 21 اکتوبر کو بھارت نے پاکستان کی شرط مان لی اور 24 اکتوبر کو معاہدے کی تاریخ طے پا گئی۔ یوں ایک سال کی قلیل مدت میں پاکستان نے دنیا بھر کی سکھ برادری کو کرتاپور راہداری کا تحفہ دے دیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here