شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقعہ پر عمران خان کو کرغیزستان کے صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا لیکن نریندر مودی کو محل سے دور ایک ہوٹل میں رکھا گیا

0
61

نئی دہلی (اے ون نیوز) شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقعہ پر عمران خان کو کرغیزستان کے صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا لیکن نریندر مودی کو محل سے دور ایک ہوٹل میں رکھا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کرغیزستان کے شہر بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے دوران پاکستانی وزیراعظم عمران خان، روسی صدر میٹن اور چینی صدر سمیت تمام رہنما ؤں کو کرغیزستان کے صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا لیکن بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو صدارتی محل سے 30کلومیٹر دور ایک محل میں رکھا گیا۔

بات سامنے آنے پر بھارت میں واویلہ مچا ہوا ہے ، بھارتی صحافی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں یہ خبر بتاتے ہوئے سوال کیا ہے ایسا کیوں ہوا کہ پاکستانی وزیراعظم کو تو بشکیک میں صدارتی محل ’دی آرک‘ میں ٹھہرایا گیا لیکن بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو صدارتی محل سے 30کلومیٹر دور ایک محل میں ٹھہرایا گیا،ایسا کیوں ہوا ؟ اس کے علاوہ شنگھائی تنظیم اجلاس میں وزیراعظمعمران خان نے نریندر مودی کو بالکل نظرانداز کر دیا تھا۔

عمران خان اور نریندر مودی ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے لیکن عمران خان مودی کو نظرانداز کر کے آگے نکل گئے ۔ عمران کاخان شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کےلیے بشکیک میں موجود تھے جہاں انہوں نے آج شنگھائی تنظیم اجلاس میں شرکت کی اور رات کا کھانا عالمی رہنماؤں کے ساتھ کھایا۔ اس موقعہ پر عمران خان اور نریندر مودی ایک ساتھ ڈائنگ ہال میں داخل ہوئے لیکن عمران خان مودی کو نظرانداز کر کے آگے نکل گئے اور ذرا ہٹ کر ایک کرسی پر جابیٹھے جبکہ نریندرمودی پیچھے رہ گئے۔

وزیراعظم عمران خاننے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ ڈنرپر مصافحہ بھی نہ کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی یوتھ کونسل کارکن بنائے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، وفاقی حکومت کی نوجوانوں کے لئے پالیسیوں کا عالمی سطح پر اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کوشنگھائی تعاون تنظیم کی یوتھ کونسل کا رکن بنائے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

اس ھوالے سےشنگھائی تعاون تنظیم کی یوتھ کونسل نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے۔ اب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقعہ پر عمران خان کو کرغیزستان کے صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا لیکن نریندر مودی کو محل سے دور ایک ہوٹل میں رکھا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کرغیزستان کے شہر بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے دوران پاکستانی وزیراعظم عمران خان، روسی صدر میٹن اور چینی صدر سمیت تمام رہنما ؤں کو کرغیزستان کے صدارتی محل میں ٹھہرایا گیا لیکن بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو صدارتی محل سے 30کلومیٹر دور ایک محل میں رکھا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here