عمران خان سفارتی آداب سے نابلد یا پھر

0
256

بشکیک( سید انورشاہ چیف ایڈیٹر روزنامہ نوی ژوند پشتو کوئٹہ و روزنامہ صداقت انٹر نیشنل کوئٹہ اسلام آباد)شنگھائی تعاون تنظیم کے کرغزستان میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس کی افتتاح کے موقع پر ممبر ممالک کے سربراہان کو کانفرنس ہال میں یکے بعد دیگرے مدعو کیا جا رہا تھا۔ تو پاکستانی وزیر اعظم سربراہی اجلاسوں کے لیے رائج روایتی سفارتی آداب کا خیال نہ رکھنے پر بین الاقوامی خبروں میں موضوع بحث بن چکے ہیں۔اس سلسلے میں افتتاحی نشست کی ایک ویڈیو جس میں ممبر ممالک کے سربراہان کو کانفرنس ہال میں یکے بعد دیگرے مدعو کیا جا رہا ہے۔ عمران خان سے پہلے مدعو کیے گئے سربراہانِ مملکت ہال میں موجود ہیں جو باری باری ہال میں داخل ہونے والے سربراہان کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہیں۔عمران خان کو مدعو ہونے کے بعد ہال میں آتے ہی اپنی نشست پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اس بات سے قطعِ نظر کے ان سے پہلے آنے والے سربراہان اور ہال میں موجود دیگر اپنی نشستوں پر کھڑے استقبال میں مصروف ہیں۔عمران خان کے بعد بھی تین مزید سربراہان بشمول روسی صدر پوٹن ہال میں تشریف لاتے ہیں مگر خان صاحب اپنی نشست پر بیٹھے تسبیح کے دانے گھماتے رہتے ہیں۔منگولیا کے سربراہ سب سے آخر میں تشریف لاتے ہیں اور ان سے پہلے ہال میں داخل ہونے والے بیلا روس کے صدر کی نشست عمران خان کی نشست کے ساتھ ہے۔جیسے ہی بیلا روس کے صدر اپنی نشست کے قریب پہنچتے ہیں تو عمران خان کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر بیلا روس کے صدر انھیں ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔شاید وہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ بیمار ہونگےے۔اس ساری کارروائی کے دوران ہال جو کہ کھچا کھچ بھرا ہے، صرف پاکستان کے وزیر اعظم نشست پر براجمان دیکھائی دے رہے ہیں جبکہ باقی سب بشمول پاکستانی وزیر خارجہ کھڑے ہو کر معزر مہمانوں کا استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔اس وقت یہ یہ ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کی جا رہی ہے اور خاص کر سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد اس پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔


اس سلسلے میں بہت سارے لوگوں کی رائے آچکی ہے جن کو شائع کرنا مناسب نہیں ہے تاہم وائٹ ہائوس کے سابقہ مشیر پیٹر لیوئے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ ’پاکستانی فیاض اور عزت دینے والے لوگ ہیں۔ مجھے اس رویے کی بالکل سمجھ نہیں آئی۔اس حرکت کے باوجود اس کانفرنس میں سربراہاں مملکت جن میں ولادی میر پوٹن سر فہرست نے پاکستان کی وجہ سے جو اہمیت عمران خان کو دی وہ سب کے سامنے ہے ۔اگر ہمارے وزیر اعظم نارمل رویہ اپناتے تو شاید اس سے زیادہ پروٹوکول ملتا ۔اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہر ریاست کے دفتر خارجہ میں ڈیسک ہوتے ہیں کہ وہ کسی ایسی تقریب میں سربراہ مملکت کو جانے سے پہلے بریف کرتے ہوئے سفارتی آداب کے متعلق سربراہ مملکت کو چھوٹی سے چھوٹی تفصیل سے آگاہ کیا جاتا ہے۔جس میںکس سے ہاتھ ملانا ہے اور کیا کرنا اور کہنا ہے پر بھی بریف کیا جاتا ہے۔اس وقت پاکستانی وزارت خارجہ میں مختلف ممالک کے لیے الگ الگ ڈیسک کام کر رہے ہیں جن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ہر بین الاقوامی کانفرنس سے پہلے وفد کے سربراہ کو سفارتی آداب سے متعلق بریف کریں یہی نہیں کانفرنسوں کے دوران بھی وزارت خارجہ کے حکام ساتھ ساتھ بریف کرتے رہتے ہیں۔جبکہمیزبان ملک کے چیف پروٹوکول افسر کی طرف سے کانفرنس کی پوری ڈرل کے حوالے سے مہمان ممالک کے پروٹوکول سٹاف کو بریف کیا جاتا ہے۔مگر اس کے باوجود ایسا رویہ ناقابل فہم ہے ۔اس سلسلے میں شاید یہ جواز جلد سامنے آئے کہ کرغستان ایک نئی ریاست ہے ہو سکتا ہے انھیں اس بارے میں تجربہ نہ ہو۔جس کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ باقی ممالک کے سربراہان کیونکر نارمل برتاو¿ کر رہے تھے۔اس سلسلے میں حکومت کو فوری طورپر وضاحت کرنی چاہےے اورذمہ دار افراد کو ریاست کی اس بدنامی پر کڑی سزا دی جانی چاہےے ۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر مقصد واضح ہے کہ یہ سب کچھ وزیراعظم نے جان بوجھ کر کیا ہے ۔ جس کے وجوہات کو جاننا اور سمجھنا انتہائی ضروری ہے ۔جس کے بارے میں قوم کو بھی آگا ہ کرنا انتہائی ضروری ہے ۔اس سلسلے میں یہ کہا جائے رو زیادہ مناسب کو کہ عمران خان کا رویہ اُس یتیم بچے جیسے تھا ۔جیسے ہر کسی نظر انداز کیا ہو۔اور جب اس کو معاشرے میں ایک مقام ملا تو وہ ماضی کے نظر انداز رویہ کی وجہ سے استعمال نہ کرسکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here