غریب مریضوں سے مفت علاج کا حق نہ چھینا جائے،ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن

0

لاہور (انٹرویو،سلمان شاہ)پنجاب میں ایم ٹی آئی آرڈیننس جاری ہونے کے بعد ٹیچنگ ہسپتالوں کا نظام پرائیویٹ ہسپتالوں پر مشتمل بورڈ آف گورنرز کے سپرد ہوجائے گا حکومت اس بات پر بضد ہے کہ یہ نجکاری نہیں بلکہ اصلاحات کا منصوبہ ہے تاہم پنجاب کے طبی عملے نے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی ہے ۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے سرپرست اعلی ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا کہنا تھا کہ 2008 میں جب ہم نے دیکھا کہ مریضوں کو ہسپتال میں سہولیات نہیں دی جا رہی اور حکومت کی جانب سے ڈاکٹرز کے حقوق پورے نہیں کیے جارہے تو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور حکومت سے مختلف اوقات میں اصلاحات کے حوالے سے ملاقات اور تجاویز دی گئیں ۔

وائے ڈی اے پنجاب نے ڈاکٹر جو دن رات مریضوں کی دیکھ بھال میں لگے ہوتے ہیں ان کی تنخواہ بارہ ہزار سےایک لاکھ روپے کروائی اور سرکاری ہسپتالوں میں کی مفت ادویات کی فراہمی بھی وائے ڈی اے کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ ماضی میں بھی حکومتوں نے ہسپتالوں کو بیچنے کی کوشش کی لیکن وائے ڈی اے پنجاب کی کوششوں سے حکومت ہر بار ناکام رہی ۔

ڈاکٹر عاطف مجید چوہدری کا کہنا تھا کہ مریض کو اپنے ڈاکٹر پر اعتماد ہونا چاہیے کیونکہ ڈاکٹر ہمیشہ اپنے مریض کا فائدہ سوچتا ہے جبکہ حکومت مسلسل جھوٹ بول کر مریض اور ڈاکٹر کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ ان کا مزیدکہناتھا کہ میں نے ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد گیسٹرو انٹرولوجی میں سپیشلائزیشن کا آغاز کیا جبکہ 2015 میں وائے ڈی اے کو جوائن کرنے کا مقصد غریب عوام کو ہسپتال میں بہتر سہولیات مہیا کرنا تھا اسی مقصد کے لئے وائے ڈی اے غریب عوام کی جنگ لڑ رہی ہے اس میں ڈاکٹرز کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مریضوں کو مکمل علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں، ایسے اقدامات سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیاگیاہے۔’اگر ڈاکٹروں،نرسوں اور سٹاف کو ملازمت کا ہی تحفظ حاصل نہیں رہے گا تو وہ علاج پر توجہ کیسے مرکوز کریں گے۔‘ حکومت اگر اصلاحات کے لئے سنجیدہ ہے تو ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی شفٹ مقرر کرے ۔

انہوں نے کہا کہ وائے ڈی اے حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ غریب مریضوں سے ان کا مفت علاج نہ چھینا جائے اگر گورنمنٹ وائے ڈی اے کی تجاویز کو مثبت انداز میں لے تو ہیلتھ سسٹم میں انقلاب لایا جاسکتا ہے مگر حکومت کا رویہ بجائے تجاویز کو مثبت انداز میں سننے کی ڈاکٹرز کو نشان عبرت بنانے کا ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here