قطر نے طیارے سے اتار کر خواتین کا ’طبی معائنہ‘ کرنے پر معذرت کرلی

0

دوحہ(اے ون نیوز)قطری حکومت نے آسٹریلیا جانے والے ایک طیارے سے خواتین مسافروں کو اتار کر ان کا ’زچگی معائنہ‘ کیے جانے کے معاملے پر معذرت کرلی۔قطری حکومت نے آسٹریلوی حکومت کی جانب سے خواتین مسافروں کے معائنے پر برہمی کا اظہار کیے جانے کے بعد معافی مانگی۔

آسٹریلوی حکومت نے دو روز قبل ہی مذکورہ واقعے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کی تضحیک قرار دیا تھا۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق قطری حکومت کے ترجمان نے 28 اکتوبر کو جاری بیان میں خواتین مسافروں کو طیارے سے اتار کر ان کے زبردستی ’زچگی معائنہ‘ کیے جانے پر معذرت کی۔

قطری حکومت کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ معاملے کی اعلیٰ سطحی تفتیش کرکے معاملے کو شفاف انداز میں سامنے لایا جائے گا۔قطری حکومت کے مطابق مذکورہ عمل اس وقت کیا گیا جب ایئرپورٹ حکام کو آسٹریلیا جانے والی ایئرلائن کے قریب کوڑے دان میں پلاسٹک کی تھیلی میں ایک نوزائیدہ بچہ ملا تھا۔

بیان میں نوزائیدہ بچے کے کوڑے دان میں ملنے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اسے خلاف قانون بھی قرار دیا گیا، ساتھ ہی کہا گیا کہ طبی ماہرین کی ہدایت پر عملے نے اس خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی، جس نے بچے کو جنم دیا۔قطری حکومت نے اگرچہ مذکورہ واقعے پر معذرت کرلی، تاہم حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایئرپورٹ پر کس طرح خواتین کا ’زچگی معائنہ‘ معائنہ کیا گیا تھا۔

مذکورہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ دن قبل آسٹریلوی نشریاتی ادارے سیون نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں ماہ 2 اکتوبر کو دوحا سے سڈنی آنے والے طیارے سے خواتین کو اتار کر ان کا معائنہ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیاکہ تھا کہ قطر ایئرویز کی پرواز کیو آر 908 سے 13 آسٹریلوی خواتین مسافروں کو اتار کر ان کا ’زچگی معائنہ‘ کیا گیا اور تمام خواتین کا معائنہ قریبی کھڑی ایک ایمبولینس میں کیا گیا۔

آسٹریلوی ادارے کے مطابق مذکورہ واقعے کے بعد طیارے پر سفر کرنے والی تمام خواتین خوف زدہ ہوگئیں اور انہیں معائنہ کیے جانے سے قبل کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھی۔مذکورہ واقعے کے سامنے آنے کے بعد آسٹریلوی وزارت خارجہ نے بھی برہمی اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو افسوس ناک اور خوفناک قرار دیا تھا۔

خواتین کے ’زچگی معائنے‘ کیے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی مذکورہ واقعے کو جنسی حملوں کے برابر قرار دیا تھا۔تاہم قطری حکام کے مطابق خواتین کا معائنہ کیے جانے سے قبل انہیں اطلاع دی گئی تھی لیکن اب قطری حکومت نے مذکورہ معاملے پر معذرت کرتے ہوئے مکمل تفتیش کا اعلان بھی کردیا۔

مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد واقعہ ہے، تاہم قطر میں پہلے بھی نوزائیدہ بچے مختلف مقامات سے ملتے رہے ہیں۔قطر میں شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش جرم ہے اور مذہبی حوالے سے بھی اس کی ممانعت ہے، تاہم وہاں کام کرنے والی غیر ملکی خواتین کو متعدد بار نوزائیدہ بچوں کو جنم دینے کے بعد پھینکنے میں ملوث پایا گایا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ایئرپورٹ پر نوزائیدہ بچے کے ملنے کا واقعہ بھی کسی غیر ملکی خاتون کی جانب سے بچے کو جنم دینے کے بعد پیش آیا ہوگا، تاہم اس حوالے سے حکام نے کچھ بھی کہنے سے معذرت کرلی ہے اور کہا ہے کہ مکمل تفتیش سے قبل کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here