دنیابھرمیں ایک اعلان،کشمیربنے گا پاکستان،یوم سیاہ پرریلیاں،مظاہرے

0
92

لندن(اے ون نیوز)لندن میں کشمیریوں سمیت سکھ برادری کی بڑی تعداد نے مظاہرے کیے اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔ بھارتی کمیشن کے باہر احتجاج میں پاکستانی نژاد برطانوی لارڈ نذیر احمد بھی پہنچے، مظاہرے میں برطانیہ بھر سے مرد وخواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بھارت مخالف نعرے بازی جاری ہے، برطانیہ بھر سے 40 ہزار لوگوں کی مظاہرے میں شرکت متوقع ہے، لندن میں بھارت کے خلاف مظاہرے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

بھارتی ہائی کمیشن لندن کے باہر کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کا برطانیہ بھر کے مختلف شہروں سے آمد کا سلسلہ جاری ہے، پاکستانی مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع دنیا بھر کی طرح لندن میں بھی کشمیری اور پاکستانی آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔

یورپی یونین کے ملک بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بھی بھارتی سفارتخانے کے سامنے کشمیر پر بھارت کے ظالمانہ رویے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کا اہتمام کشمیری کمیونٹی نے دیگرتنظیموں کے تعاون سے کیا گیا۔

مظاہرے میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے مذمت میں کیا جارہا ہے۔اس موقع پر چیئر مین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سیّد کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے ظالمانہ رویے اور بربریت کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے، ہم دنیا تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ بھارت ظلم و جبر سے کشمیریوں کے حق کو دبانا چاہتا ہے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو اٹھائے گئے حالیہ غیر آئینی اقدامات سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر کی انتہا کردی۔ مقبوضہ وادی میں کئی دہائیوں سے 7 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے اس کے باوجود مزید ایک لاکھ 80 ہزار بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر بھجوا دیئے گئے جنھوں نے پوری وادی کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ ہی کاٹ کر رکھ دیا۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام پر مظالم اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ذیلی اداروں کی حالیہ رپورٹس بھی مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک اور تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سب سے مستند ثبوت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر آفس کی حالیہ غیر جانبدارانہ رپورٹس ہیں۔ پاکستان پہلے دن سے ہی ان رپورٹس کی سفارشات کو تسلیم کر رہا ہے جبکہ بھارت مسلسل انکاری ہے۔

حکومت پاکستان کا 15 اگست کو یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ اگر عالمی سطح پر کوششیں نہ کی گئیں تو یہ تشویشناک صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے شدید خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here