متحدہ عرب امارات پولیس کا پاکستانیوں کیساتھ انتہائی شرمناک سلوک

0

دبئی (اے ون نیوز)متحدہ عرب امارات جیسے ملک میں بھی پاکستانیوں سے امتیازی سلوک کی کہانی سامنے آگئی ہے اور پولیس اہلکاروں نے صحرائی علاقے میں ناکہ لگا کر بنگلہ دیشی اور بھارتی شہریوں کو جانے کی اجازت دیدی جبکہ پاکستانیوں کو روک لیا، جن عرب باشندوں کے ساتھ بھی پاکستانی ڈرائیور تھے ، انہیں ڈرائیور کے بغیر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کے ڈرائیور یا دیگر پاکستانی ملازمین کو روک لیا گیا۔

دو دہائیوں سے خلیجی ملک میں مقیم ایک پاکستانی نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے دبئی سے ابوظہبی جانے کے لیے پہلے ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے اور منفی رپورٹ آئے تو آپ کو ابوظہبی جانے کی اجازت ہوتی ہے ، راستے میں ایک جگہ چیک پوائنٹ پر ٹیسٹ دیکھے جاتے ہیں لیکن چند روز قبل شام تقریباً چھ بجے اس چیک پوائنٹ پر پہنچے تو اماراتی دستاویزات دیکھی گئیں، پھر ریگستان میں سڑک سے ہٹ کر کھڑا کردیا گیا، وہ کچھ گاڑیوں کو چھوڑ بھی رہے تھے ، پہلے ہی 50 سے 60 گاڑیاں کھڑی تھیں اور ان کے مسافر قطار میں تھے ، پولیس اہلکار کرسیوں پر براجمان تھے،تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک پولیس والا اٹھ کر آیا اور اس نے کہا کہ انڈین، نیپالی، بنگلہ دیشی، سری لنکن اور بلوچی ایک طرف آجائیں، اور جو پاکستانی ہیں وہ کھڑے رہیں۔ایک طرف لے جائے گئے غیر ملکیوں کو کہا گیا کہ تم لوگ جائیں، تمہیں یہاں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان میں کچھ ایسی بھی گاڑیاں تھیں جن میں انڈین بھی تھا، پاکستانی بھی تھا یا کوئی عربی تھا ، ایک گاڑی میں دو عربی تھے اور ان کا ڈرائیور پاکستانی تھا تو پولیس اہلکاروں نے ان کو بولا کہ تم لوگ گاڑی لے جاﺅ اور اس (ڈرائیور ) کو یہیں چھوڑ جاﺅ۔ عرب باشندوں نے کہا کہ بیچ صحرا کے یہ کیسے آئے گالیکن کسی کی نہ سنی گئی۔ ان صاحب کے ساتھ گاڑی میں موجود شخص جو عربی زبان میں ماہر تھا، اس نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے بولا کہ تم نے جانا ہے چلے جاﺅ تمہیں یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں، اس کو یہاں ٹائم لگے گا، لیکن یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ وہ چلے گئے یا پھر اپنے ڈرائیور کیلئے رکے ۔

بتایاگیا ہے کہ موقع پر کم از کم تین فیملیاں بھی تھیں، جن کے چھوٹے بچے تھے اور خواتین بھی ، ان خاندانوں کو بھی گاڑی میں نہیں بیٹھنے دیا گیا اور بتایا گیا کہ لائن سے آپ کی باری آئے گی، فیملی کے تمام افراد کو انسپکشن کے لیے قطار میں ہی کھڑا ہونا پڑے گا۔ یہ بھی پتہ چلا کہ پختون ڈرائیور وں نے وہاں شور شرابا بھی کیا ، تو انہیں کہا گیا کہ آرام سے قطار میں کھڑے ہوں، نہیں کھڑے ہوسکتے تو اپنے حکمرانوں سے بات کریں۔پھر وہاں موجود ستر اسی لوگوں نے “پی ٹی آئی زندہ باد، عمران خان زندہ باد” کے نعرے لگانا شروع کردیئے ۔

یہ بھی پتہ چلا کہ کچھ لوگوں نے دبئی واپس جانا چاہا کہ اب ابوظہبی نہیں جاتے تو انہیں واپس بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی کہ دبئی سے آگئے تو مطلب آگئے، کچھ لوگوں کے فنگر پرنٹ کیے گئے اور کچھ لوگوں کی دستاویزات چیک کی گئیں، جن لوگوں نے دیگر ممالک سے آنے اور کچھ دنوں میں واپس جانے کا کہا تو انہیں ہدایت کی گئی کہ جلدی جائیں، ایک افغانی ٹرک ڈرائیور کو بھی جلد اپنے ملک واپس جانے کیلئے کہا۔ اس سلسلے میں تاحال حکومت پاکستان یا یواے ای انتظامیہ کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here