مذہبی ہم آہنگی،عام شہریوں کو بھی کرتارپور جانے کی اجازت دیدی گئی،فیس لینے کی بھی تجویز

0

کرتار پور(اے ون نیوز)مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت نے عام شہریوں کو بھی گوردوارہ دربارصاحب کرتارپورصاحب جانے کی اجازت دے دی۔

رواں ماہ 9 نومبرکو حکومت نے آرائش وتزئین اور توسیع کے بعد گوردوارہ دربارصاحب کو یاتریوں کے لئے کھول دیا تھا اورکرتارپور راہداری کے راستے پہلا جتھہ بھارت سے یہاں ماتھا ٹیکنے آیا تھا، متروکہ وقف املاک بورڈ نے گوردوارہ دربار صاحب کو اب عام پاکستانی شہریوں کے لیے بھی کھول دیا ہے اور وہ یہاں آسکتے ہیں۔

بورڈ ذرائع کے مطابق ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے گوردوارہ دربارصاحب آنیوالے عام پاکستانی شہریوں کے لئے 200 روپے انٹری فیس کی تجویزدی گئی ہے تاہم پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے اس تجویزکومسترد کردیا ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈکے سیکرٹری طارق وزیرخان نے بتایا کہ گوردوارہ صاحب کی کارسیواکے لئے 200 روپے انٹری فیس کی تجویزدی گئی ہے لیکن پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے اس تجویزکوقبول نہیں کیاہے۔ مقامی شہریوں کے لئے انٹری فیس کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سیاحت کے فروغ کے حوالے سے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی شہر میں مختلف مذہبی اورتاریخی مقامات کی سیاحت کے حوالے سے 1500 روپے فیس وصول کرتی ہے

پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردارستونت سنگھ نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کے لئے کوئی فیس نہیں رکھی جارہی ہے، صرف راہداری کے راستے آنے والے بھارتی شہریوں سے 20 ڈالر سروس فیس لی جارہی ہے۔

ادھرمختلف سکھ سنگتوں کی طرف سے بھارت کی مرکزی اورپنجاب حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ راہداری کے راستے گوردوارہ دربارصاحب آنیوالے والے یاتریوں کو انٹری فیس کے حوالے سے سبسڈی دے اور ان کی فیس بھارتی حکومت ادا کرے۔ بیرون ملک بسنے والے کئی سکھ رہنماؤں کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر مستحق سکھوں کی انٹری فیس دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں نوجوت سنگھ سدھو کے بعد اب ان کی اہلیہ ڈاکٹرنوجوت کور بھی کرتارپور راہداری کے راستے گوردوارہ دربار صاحب آئیں گی۔ ڈاکٹر نوجوت کور 500 یاتریوں کے جتھے کے ساتھ پہلی بار گوردوارہ دربارصاحب ماتھا ٹیکنے آئیں گی۔

واضع رہے کہ گوردوارہ دربارصاحب 42 ایکڑپرمشتمل پاکستان کا سب سے بڑاگوردوارہ ہے جس کی توسیع اورتعمیرات کا کام 9 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیاگیاہے۔یہ گوردوارہ اب بھارت سمیت دنیا بھرکے سکھوں اورسیاحوں کی توجہ کا مرکزبناہواہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here