مرسڈیز کی دنگ کردینے والی کانسیپٹ گاڑی،کیا آپ اسے خرید سکیں گے؟

0

لاس ویگاس(اے ون نیوز)مرسڈیز نے اپنی نئی کانسیپٹ گاڑی متعارف کرائی ہے جو کہ براہ راست ہولی وڈ فلم ‘اواتار’ سے نکل کر آئی ہے۔لاس ویگاس میں سی ای ایس نمائش کے موقع پر مرسڈیز بینز نے اس کانسیپٹ گاڑی ویژن اوتار کو پیش کیا اور اس کے لیے کمپنی نے ڈائریکٹر جیمزکیمرون کی فلم سیریز سے شراکت داری کی ہے۔

یہ اتنہائی حیران کن کانسیپٹ گاڑی ہے کیونکہ اس کا ڈیزائن کسی مستقبل کے صابن جیسا ہے جبکہ پہیوں پر جگمگاتے بیج اور لکیریں بنی ہوئی ہیں۔اس گاڑی میں کوئی دروازہ نہیں اور اس کے بیک پر 33 حرکت کرنے والے ملٹی ڈائریکشنل بائیونک فلیپس دیئے گئے ہیں جو کہ کسی چھپکلی کے چھلکے جیسے لگتے ہیں۔

یہ تو واضح نہیں کہ کیسے مگر ایسا سمجھا جارہا ہے کہ یہاں سے گاڑی کو حرکت کرنے کے لیے توانائی ملتی ہے، جبکہ ڈرائیور اور مسافروں کو باہیر دنیا کا حیرت انگیز نظارہ دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

گاڑی کے فرنٹ (ڈرائیور والے حصے) پر ایک بڑی اسکرین موجود ہے جو کہ عجیب تکون جیسی ڈیزائن میں موجود ہے۔اس گاڑی کے اندر بیٹھا جائے تو یہ مسافر کی نبض کو جانچتی ہے اور آپ کی سانس کے فہم بھی رکھتی ہے اور مرسڈیز کا کہنا ہے کہ یہ بائیومیٹرک کنکشن اس گاڑی کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔

کنسول پر موجود نبض کے ذریعے گاڑی کو کنٹرول کرنے والے پیڈ (پلسنگ کنٹرول پیڈ) اس جگہ ہے جہاں بیٹھنے پر آپ کا ہاتھ رکھا ہوگا اور وہاں سے ہی آپ اس کے تمام اہم افعال کو استعمال کرسکیں گے۔

یعنی جب ہاتھ اوپر کریں گے تو ایک مینیو اسکرین پر آپ کی ہتھیلی نظر آئے گی، جہاں آپ فلم اواتار میں دکھائی جانے والی دنیا کو مختلف پہلوﺅں سے کھوج سکیں گے، جبکہ اس کی نشستوں کا ڈیزائن بھی اواتار کے کرداروں کے سونے کے جھولے جیسا ہے۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ اسکرینز کو گاڑی میں سوار بچوں کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا یعنی آگے بیٹھے والدین کو پیچھے موجود بچوں کے لیے فکرمند نہیں ہونا ہوگا جبکہ آگے بیٹھے مسافر کی نبض نشست کے پیچھے لائٹ ڈسپلے کرے گی جس سے بچوں کو تحفظ کا احساس ہوگا۔

گاڑی میں بچوں کے لیے میجک پول نامی ٹیکنالوجی دی گئی ہے جو انہیں گیمز سیکھنے اور اگیومینٹڈ رئیلٹی ٹیکنالوجی کا تجربہ فراہم کرے گی۔یہ گاڑی خودکار ڈرائیونگ کرسکے گی مگر زیادہ امکان ہے کہ یہ بس کانسیپٹ ڈیزائن ہی رہے گی اور عام صارفین کو کبھی دستیاب نہیں ہوسکے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here