مشکلات میں گھرے سابق صدر آصف علی زرداری کو بڑا ریلیف مل گیا

0
226

اسلام آباد (اے ون نیوز) مشکلات میں گھرے سابق صدر آصف علی زرداری کو بڑا ریلیف مل گیا ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری کی سولر پراجیکٹس میں غیر قانونی ٹھیکوں سے متعلق کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

دوران سماعت نیب نے آصف علی زرداری کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نیب کے تفتیشی افسر نے بیان دیا کہ آصف علی زرداری کے اس کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے۔ اس کیس میں آصف علی زرداری کی بھی ضرورت نہیں ہے لہٰذا فی الوقت آصف علی زرداری کو گرفتار نہیں کر رہے۔ جس کے بعد نیب کے بیان کے تناظر میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر کی درخواست ضمانت نمٹا دی ۔

یاد رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اس وقت نیب کی حراست میں ہیں۔ 10 جون کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کے بعد نیب ٹیم نے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کر لیا اور انہیں نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کر دیا گیا تھا۔

جس کے بعد اگلے ہی روز 11 جون کو سابق صدر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں نیب نے ان کے چودہ روزہ ریمانڈ کی استدعا کی تاہم نیب کورٹ کے جج محمد بشیر نے سابق صدر کو دس روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری 21 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کی حراست میں رہیں گے۔ جبکہ آج سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت کے لیے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ۔

یہ درخواست اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی۔ درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نیب آرڈیننس کی سیکشن 24 کے تحت گرفتاریاں غیر قانونی ہیں، نیب نے آصف علی زرداری کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا ۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں ، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت آصف زرداری کی گرفتاری کا اقدام کالعدم قرار دے ۔ اس درخواست میں حمزہ شہباز کی ضمانت کی استدعا بھی کی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here