پروفیسر ڈاکٹر سید منصور سرورنے یو ای ٹی لاہورکے وائس چانسلرکا چارج سنبھال لیا

0
55

لاہور( اے ون نیوز) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورکے نئے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر سید منصورسرور نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ہائیر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سرچ کمیٹی کی سفارشات اور سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات پر عملدرامد کرتے ہوئے گورنر پنجاب اور چانسلر یو ای ٹی چوہدری محمد سرورنے پروفیسر ڈاکٹر سید منصور سرور کی تقرری کی منظوری دی ہے۔ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن نمبر NO. SO(Univ.)17-1/2019 کے مطابق ان کی تقرری چار سال کے لیے کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے اجرا ء کے بعد آج انہوں نے اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھال لیا ہے۔

قا ئمقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عزیز اکبر نے چارج ان کے حوالے کیا۔پروفیسر ڈاکٹر منصور سرور نے آؤواسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ سے 1985میں کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹر جبکہ 1988میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ان کے پاس امریکہ،کویت اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 31سال کا تدریسی تجربہ ہے۔جس میں انہوں نے گیارہ سال یونیورسٹی آف پورٹ لینڈ میں بطوراسسٹنٹ اور ایسو سی ایٹ پروفیسر اپنے فرائض سر انجام دئیے۔جبکہ وہ لمز میں بھی کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ رہ چکے ہیں۔اسی طرح وہ قرشی یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔

قبل ازیں ڈاکٹر منصور سرور PUCITمیں بطور پرنسپل اپنی خدمات بارہ سال سے زیادہ عرصہ تک سر انجام دیں۔جامعہ کے ڈینز، تعلیمی و انتظامی شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ اور طلباء نے انکا خیر مقدم کیا۔اس موقع پر ڈاکٹرمنصور سرورنے کہا کہ پاکستان کی سب سے قدیم انجینئرنگ یونیورسٹی کا بطوروائس چانسلر انتخاب میرے لئے قابل فخر بات ہے۔میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کواستعمال کرتے ہوئے یو ای ٹی میں تعلیمی ماحول کو بہتر کرنے کی کوشش کروں گا۔انہوں نے مزید کہاریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں یو ای ٹی کمیونٹی کی خدمت کرنا اورطلباء کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور ریسرچ کلچر کا فروغ بھی میری اولین ترجیحات میں ہے۔یاد رہے پروفیسر ڈاکٹر منصور سرور یو ای ٹی کے ایلومینائی بھی ہیں انہوں نے 1981میں یو ای ٹی سے بی ایس سی الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ جبکہ انہوں نے انٹر گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔دریں اثناء سابق قائمقام وائس چانسلر ڈاکٹر عزیز اکبر نے انہیں نیا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here