کرونا وائرس کن طریقوں سے صحتمند لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے؟ چینی سائنسدانوں کی نئی تحقیق سامنے آگئی

0

شنگھائی (اے ون نیوز) چین کے طب کے شعبہ سے وابستہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس متاثرہ شخص کو چھونے، ہوا کے ذریعے اور مریض کے چھینکنے کی وجہ سے پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے اس کو ڈائریکٹ ٹرانسمیشن ، کونٹیکٹ ٹرانسمیشن اور ایئر و سول ٹرانسمیشن کے نام دیے ہیں۔

شنگھائی سول افیئرز بیورو کے ڈپٹی ہیڈ ژین قن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایئرو سول ٹرانسمیشن (ہوا کے ذریعے منتقلی) کے ذریعے بھی پھیلتا ہے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہوا میں کرونا وائرس کے ذرات موجود ہوں تو یہ انسانوں میں سانس کے ذریعے داخل ہو کر انہیں متاثر کرسکتا ہے۔ ہم نے لوگوں میں یہ آگاہی پھیلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ فیملی ڈنرز وغیرہ کے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ماہرین کے مطابق ڈائریکٹ ٹرانسمیشن کا مطلب یہ ہے کہ ایک صحتمند آدمی ایسے ماحول میں موجود ہو جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ مریض بھی موجود ہے ، اس دوران مریض کے کھانسنے یا چھینکنے سے کرونا وائرس ہوا میں شامل ہوجائے گا اور جب صحتمند آدمی سانس لے گا تو اس کے اندر یہ منتقل ہوکر اسے بھی متاثر کردے گا۔

کونٹیکٹ ٹرانسمیشن کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک صحتمند آدمی کسی ایسی چیز کو چھولے جس پر کرونا وائرس موجود ہے اور بعد میں اپنے ہاتھوں کو منہ، ناک یا آنکھوں پر لگالے تو اس سے بھی کرونا وائرس پھیلتا ہے۔

چینی حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اکٹھے ہونے سے گریز کریں تاکہ کرونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خطرات سے بچا جاسکے، اپنے گھروں کی کھڑکیاں کھلی رکھیں تاکہ تازہ ہوا کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہے اور اپنے کھانے کو ہائی جینک کریں۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے چین میں اب تک 811 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس سے 38 ہزار سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کرونا وائرس سے متاثرہ 2 ہزار 649 مریض اب تک صحتیاب ہوچکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here