کورونا وائرس،برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی طبیعت سنبھلنے لگی

0

لندن (اے ون نیوز) کورونا وائرس کی بیماری میں مبتلا برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن کی طبیعت سنبھلنے لگی۔برطانیہ میں وزیر اعظم کے دفتر ڈاؤننگ سٹریم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کی حالت سنبھل گئی ہے۔ کورونا وائرس کی علامات کے شدید تر ہونے کے بعد انھوں نے رات ہپستال کے انتہائی نگہداشت میں گزاری۔

وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اب بہتر ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اب سادہ آکسیجن کی مدد سے بحال ہو رہے ہیں اور بغیر کسی سپورٹ کے سانس لے سکتے ہیں۔ اب انہیں مشینی اور مصنوعی سانس کی ضرورت نہیں رہی اور ان کا نظام تنفس بہتر ہے۔وزیر اعظم میں نمونیا کی تشخیص نہیں ہوئی۔

جرمن حکومت کے ترجمان اشٹیفان زیبرٹ نے برطانوی وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ چانسلر میرکل بورس جانسن کی جلد صحت یابی کی تمنا کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ وہ صحت یاب ہوکر اسپتال سے جلدی ہی باہر آجائیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیراعظم کے کووڈ19 میں مبتلا ہونے اور ان کی حالات کے بارے میں سن کر انہیں کافی دکھ پہنچا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون، ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک رُٹے، کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈیو اور بھارتی وزیر اعظم نریند مودی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی ان کی صحت یابی کیلئے دعائیں کیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر برائے امور کابینہ مائیکل گوو اپنے خاندان کے ایک رکن میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد خود بھی قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔ انھیں یقیناً اب آن لائن ہی کام کرنا پڑے گا اور وزیراعظم کی صورتحال کے پیشِ نظر کابینہ کے امور اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

دریں اثناء برطانوی ادارہ صحت بی ایم اے کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ناکارہ حفاظتی کٹس کی وجہ سے ڈاکٹرز کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ کچھ نے تو ان کی فراہمی کو بے سود قرار دیا۔بی ایم اے کے سروے کے مطابق تقریباً 2000 طبر کارکنوں جن میں سے دو تہائی ڈاکٹرز تھے نے کہا ہے کہ وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔

ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا ’ہمارے آنکھوں کے تحفظ کرنے والی ڈھال اور ہمارا ایپرن ناکارہ ہیں۔ کچھ حفاظتی سامان تو بس خانہ پوری ہے لگا رہا ہے جو صرف ایک نفسیاتی یقین دہانی ہے۔‘یہ تفصیلات ایسے میں سامنے آئی ہیں جب حال ہی میں لندن کی ایمولینس سروس کے اہلکاروں نے کہا کہ انہی دی گئی حفاظتی کٹس ایسی ہیں جو سینڈویچ بنانے والوں کو دی جاتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here