کورونا وائرس کس لئےتخلیق کیا گیا؟چینی سائنس دان کا تہلکہ خیز انکشاف

0

واشنگٹن (اے ون نیوز) وائرس کے علوم کے ماہر چینی سائنسدان ڈاکٹر یان لی منگ نے الزام لگایا ہے کہ کرونا وائرس جان بوجھ کر لوگوں کو نقصان پہنچانے کیلئے تخلیق کیا گیا۔

انہوں نے امریکی ٹی وی چینل ”نیوز میکس“ سے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ چینی کمیونسٹ پا رٹی کی حکومت نے کرونا وائرس کی اس خاص قسم کو جو انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکے جان بوجھ کر لیبارٹری میں تیار کروایا۔ اسکا مقصد خفیہ طریقے سے اسے مخالف ممالک خصوصاً امریکہ منتقل کرنا تھا تاکہ وہ وسیع پیمانے پر انسانی آبادی کو نقصان پہنچا کر دشمنوں کو کمزور کیا جاسکے۔

چینی سائنسدان کے مطابق یہ وائرس تیاری کے بعد غلطی سے ووہان شہر کی آبادی میں چلا گیا جہاں یہ تجربہ گاہ تھی۔ اس پر چینی حکومت نے ” ا صل ماخذ“ پر پردہ ڈالنے اور امریکہ سمیت اپنے مخالفوں کو بے خبر رکھنے کےلئے بنیادی معلومات کو ظاہر نہیں ہونے دیا تاکہ جب یہ وائرس ان کے ممالک میں جائے تو وہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار نہ ہوں اور اس وائرس کو تیار کرنے کا مقصد پورا ہو جائے۔

چینی سائنسدان نے وہ تکنیک بھی تفصیل سے بیان کی کہ جس کے ذریعے جب اس وائرس پر تحقیق ہو تو یہ حقیقت چھپ جائے کہ اسے تجربہ گاہ میں تبدیل کر کے انسانوں پر حملہ کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر منگ ہانگ کانگ میں عالمی ادارہ صحت کے ذیلی دفتر میں کام کر رہے تھے اور وہ قبل ازیں چینی شہر ووہان کی اسی تجربہ گاہ میں اس نسل کے وائرس کے انسانوں میں منتقل ہونے کی صورت میں اس کیلئے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے تھے۔

چینی سائنسدان کہتے ہیں اس تجربہ گاہ میں کام کرنےوالے ساتھیوں سے انہیں رازداری میں اصل حقائق معلوم ہوئے۔ اس کا انہوں نے پبلک میں اشارة اظہار بھی کیا۔ اس دوران وہ سائنسدان زیرعتاب آگئے جنہوں نے مجھے اندر کی خبر دی تھی۔ وہ بھی زیرحراست چلے گئے اور میں بھی پکڑے جانے کے خدشے سے ہانگ کانگ سے فرار ہوکر کیلیفورینا کی ریاست میں پہنچ گیا۔

ڈاکٹر یان لی منگ کہتے ہیں وہ وائرس کے علوم کے ماہر ہیں اور اس تکنیک کو بخوبی سمجھتے ہیں جو چینی حکومت نے ”ماخذ“ چھپانے کیلئے تجربہ گاہ میں استعمال کرائی۔ اس تکنیک کو “GAIN OF FUNCTION” کہتے ہیں اور ”سارس کو وی ٹو“ وائرس کے جنیات کو تبدیل کرکے انسانوں پر حملہ کرنےوالا وائرس ”کوو ڈ19‘ مصنوعی طور پر تیار کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here