کیا دھوپ سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہے؟نئی تحقیق سے سابقہ تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے

0

کیلیفورنیا(اے ون نیوز)بتاتے چلیں کہ گزشتہ سال دو الگ الگ تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ دھوپ میں شامل بالائے بنفشی (الٹراوائیلٹ) شعاعیں 10 سے 20 منٹ میں کورونا وائرس کا خاتمہ کردیتی ہیں۔

تازہ مطالعے میں ان دونوں تحقیقات کا آپس میں موازنہ کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ اصل سے ملتے جلتے مصنوعی حالات میں الٹراوائیلٹ شعاعوں سے کورونا وائرس کا خاتمہ، سابقہ اندازوں کے مقابلے میں آٹھ گنا تیزی سے ہوا۔
اصل انسانی لعابِ دہن میں بھی یہ رفتار ہمارے پچھلے اندازوں کی نسبت 3 گنا زیادہ رہی تھی۔

واضح رہے کہ الٹراوائیلٹ شعاعوں کی دو اقسام ہیں: ’’یو وی اے‘‘ (UA-A) اور ’’یو وی بی‘‘ (UV-B)۔ یہ دونوں ہی زمین تک پہنچنے والی دھوپ میں قدرتی طور پر شامل ہوتی ہیں۔ان دونوں تجربات میں ’’یو وی بی‘‘ شعاعوں کے کورونا وائرس پر اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا کیونکہ یہ اپنی وائرس اور جراثیم کش خصوصیات کی بناء پہلے ہی پر مشہور ہیں۔

حالیہ تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوپ سے کورونا وائرس کا تیز رفتار خاتمہ ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں 3 تا 8 گنا تیز رفتار ثابت ہوا ہے۔فی الحال ماہرین نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہے، لیکن انہیں شبہ ہے کہ اس معاملے میں کم توانائی والی ’’یو وی اے‘‘ شعاعوں کا کردار بھی اہم ہوسکتا ہے جسے کھنگالنے کی اشد ضرورت ہے۔

یہ تحقیقات نہ صرف کورونا وائرس کا پھیلاؤ قابو میں رکھنے، بلکہ مستقبل میں دیگر وائرسوں اور جرثوموں کو مؤثر طور پر ختم کرنے میں بھی اہمیت کی حامل ہوں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here