گوادر میں مقامی لوگوں کو روزگار کے حوالے سے ترجیح دی جائے،آل گوادرشپنگ و کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن

0

‎اسلام آباد(اے ون نیوز)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سمندری امور کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گوادر پورٹ پر مقامی سروسز فراہم کرنے والوں کے تحفظ کے حوالے سے عوامی عرضداشت کے علاوہ مالی سال 2020-21 کیلئے وزارت سمندری امور کی طرف سے پی ایس ڈی پی کیلئے تجاویز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے گوادر پورٹ پر مقامی سروسز فراہم کرنے والوں کے تحفظ کے حوالے سے عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

آل گوادر شپنگ و کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انجنیئر حمید بلوچ نے کمیٹی کو بتایا کہ جب گوادر پورٹ کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو کہاگیا تھا کہ مقامی آبادی کیلئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے لیکن زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو ‎مستقبل میں مسائل مزید بڑھیں گے ۔ حکومت پالیسی واضع کرے جس میں مقامی لوگوں کو روزگار کے حوالے سے ترجیح دی جائے،

انھوں نے کہا کہ شپنگ، کلئیرنگ و ٹرانسپورٹ کا کام غیر مقامی کمپنیوں کو دی جارہی ہیں ہم نے ان مسائل کو ہر جگہ اجاگر کیا ہے لیکن اس میں پیشرفت نہیں ہوئی ہے چائنیز کمپنیوں کا رویہ مقامی کمپنیوں کے ساتھ بھی غیر مناسب ہے اس سلسلے میں حکومت کو واضع پالیسی بنانی ہوگی ہم اس ادارے کے زریعے ایک بار پھر گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے حل کیا جاہے

‎چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کو روزگار ملنے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ابھی کاروبار کم ہے مستقبل میں کاروبار بڑھے گا اس حوالے سے بریف بنایا ہے کہ گوادر کو مکمل آپریشنل بنایا جائے اور کاروباری محرکات میں اضافہ ہو سکے ابھی وہاں مقامی لوگوں سے کام لیا جا رہا ہے ۔

سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ نومبر میں ٹرانسشپمنٹ کے رولز بن جائے گے مگر ابھی تک نہیں بنے ۔ قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کو اس حوالے سے خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ نے قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے گی ۔ وفاقی وزیر سمندری امور علی حیدر زیدی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ گوادر پورٹ کو زیادہ سے زیادہ ملکی اور عوامی مفاد میں بنانے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ پاکستان کی زمین کسی کو مفت میں نہیں دی جائے گی بے شمار اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور مقامی افراد کو روز گار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کیلئے لوگوں کی ٹرینگ کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے

پاکستان میرین اکیڈمی( پی ایم ای) کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا۔ ڈپلومہ کی جگہ چار سالہ ڈگری کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی ملکی معیشت کیلئے انتہائی اہم ہے اور ملک کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اس سے مستفید ہونے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 33وظائف 5.25لاکھ فی بچہ کے لئے ہیں اُن میں سے 50فیصد صوبہ بلوچستان کیلئے ہیں جس میں بچوں کو کراچی میں تربیت دی جائے گی ۔

سینیٹر کہدہ بابر نے انکشاف کیا کہ چار ہزار سولر سسٹم گوادر پورٹ اتھارٹی کے پاس پڑے ہیں مگر اُن کو استعمال نہیں کیا گیا ۔ چیئرمین گوادر پورٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم کلیرنس میں تاخیر کی وجہ سے تقسیم نہیں ہو سکی ایسٹ بے کے ماہی گیروں کا سروے کروا لیا ہے غر یب سے غریب لوگوں کو سولر سسٹم دیئے جائے گے ۔ وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے تجویز دی کہ احساس پروگرام سے ڈیٹا حاصل کر کے جلد سے جلد تقسیم کئے جائیں ۔قائمہ کمیٹی کو وزارت سمندری امور کی طرف سے مالی سال 2020-21کیلئے تجویز کردہ پی ایس ڈی پی منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 6جاری اور 9نئے منصوبے ہیں ،جاری منصوبوں میں سے ایسٹ بے پر کام 56فیصد مکمل ہو چکا ہے ۔

گوادر پورٹ پر سپورٹ یونٹ کا منصوبہ جون 2021میں مکمل ہو گا ، پاک چائنا ٹینکل اینڈ ویکشنل انسیٹیوٹ جو 2ارب کی گرانڈ کا منصوبہ ہے دسمبر 2021میں مکمل ہو گا جو مقامی ورک فورس بنانے میں اہم ثابت ہو گا۔ کمیٹی کو 9 نئے منصوبوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ پاکستان میرین اکیڈمی کے حوالے سے بتایا گیا کہ 1978میں قائم ہو ئی تھی اور اس کی مینٹینس کا کوئی کام آج تک نہیں ہوا 60ملین کا منصوبہ سی ڈی ڈبلیو پی نے منظور کر رکھا ہے۔

کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی کے 6منصوبے ہیں جس میں پانچ کلومیٹر کی بانڈری وال ، سمندری گہرائی اور جیٹیز کی بحالی کے بھی منصوبے ہیں۔ تین منصوبوں پر جیکا کام کرے گا جن میں سے بزنس پارک کا قیام ، کولڈ سٹورج ٹنل اور آکشن ہال کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ چیئر پرسن سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ گوادر پورٹ پر کام کو جلد سے جلد مکمل کرنے سے ملک اور عوام کو فائدہ ہو گا ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس کی بدولت مقامی آبادی زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے اور مقامی لوگوں کو درپیش مسائل حل ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تربیت کے مواقع فراہم کر کے اُن کی استعداد کار کو بہتر کیا جائے تا کہ اس عظیم منصوبے سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ کمیٹی کے جمعرا ت کے اجلاس میں سینیٹر ز کہدہ بابر اور ستارہ ایاز کے علاو ہ وفاقی وزیر وزارت سمندری امورعلی حیدر زیدی ، چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر خان کاشانی اور وزارت سمندری امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here