تین سو سے زائد نوجوان کشمیری لڑکیوں کو گھروں سے اغوا کرکے بھارتی فوجی بیرکوں میں پہنچانے کا انکشاف

0
7317

سری نگر (اے ون نیوز)مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتیوں نے کشمیری لڑکیوں سے شادیوں کے خواب سجا لیے تھے لیکن بھارتی فوج نے اپنی گھناؤنی منصوبہ بندی کے تحت سینکڑوں کشمیری لڑکیوں کو اغوا کر لیا ہے۔ اس حوالے سے قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشمیر کی نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج نے حراست میں لئے گئے4100 کشمیری نوجوانوں کو مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں سے نکال کر فوجی جہازوں کے ذریعے بھارت کے مختلف اضلاع کی جیلوں میں منتقل کر دیا جہاں ان پر بدترین تشدد کیا جا رہا ہے۔

جبکہ بھارتی جیلوں میں تشدد سے 182 کشمیری جوان زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج کی جانب سے 300 سے زائد نوجوان کشمیری لڑکیوں کو گھروں سے اغوا کر کے بھارتی فوجی بارکوں میں پہنچانے کا انکشاف ہوا۔یہ آپریشن بھارت کی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر اجیت دوول کی نگرانی میں کیا گیا۔ اس خوفناک سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے میڈیا پر خبر پہنچانے والے تین صحافیوں عبد الماجد ، عادل بشیر اور آزاد احمد کو بھی شہید کر دیا گیا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی فوج کرفیو کے دوران مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتی اور اس آپریشن کے دوران 15 سال سے 45 سال تک عمر کے نوجوانوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ گرفتار نوجوانوں کو مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں رکھنے کے بعد ان میں سے کچھ نوجوانوں کو خصوصی طور پر چُن چُن کر بھارتی جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے جبکہ بھارتی فوج کے اہلکار دوبارہ انہی گھروں میں چھاپے مار کر نوجوان لڑکیوں کواغوا کر کے فوجی بارکوں میں لے جا رہے ہیں۔

اہم ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وادی میں اس قدر خوفناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے کہ سری نگر کی ایک آبادی میں ایک گھر سے تین لڑکیوں کو اغوا کرنے پر جب گھر کے افراد نے مزاحمت کی تو اس گھر کے تین سال سے لے کر آٹھ سال تک کے چھ بچوں سمیت بارہ افراد کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا ۔بھارت کی نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر اجیت دوول کی نگرانی میں ہونے والے آپریشن کا اصل مقصد کشمیری نوجوانوں کو بھارتی جیلوں میں پھینک کر کشمیر کی آواز کو دبانا ہے تاکہ وادی میں کوئی بھی کشمیری اپنے حق کے لیے کھڑا ہونے کے قابل نہ رہ سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here