مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کو ثالثی کا اختیار دینا دشمن کو چھری دینے کے مترادف ہے

0
54

پشاور(اے ون نیوز)جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر سستی کا مظاہرہ ختم نہیں کیا تو عوام کا یہ مارچ پشاور کے بجائے سری نگر میں نظر آئے گا۔پشاور میں ’کشمیر بچاؤ مارچ‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں قیام امن پاکستان کی ضرورت ہے، ثالثی کا اختیار ڈونلڈ ٹرمپ کو دینا دشمن کو چھری دینے کے مترادف ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے مقبوضہ کشمیر میں شمع آزادی کو روشن کیا تھا اوراس جدوجہد کا آغاز 1931 میں ہوا جب خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عبدالقدیر خان نے مقبوضہ کشمیر کا رخ کیا لوگوں کو ’ظالم حکومت‘ کے خلاف اکٹھا کیا اور انتظامیہ نے انہیں پھانسی دی۔

انہوں نے کہا کشمیرعوام 71 برسوں سے آزادی کے جدوجہد کررہے ہیں، لاکھوں جام شہادت نوش کرگئے، بھارتی فوجیوں نے 14 ہزار ماؤوں بہنوں کی عصمت دری کی۔سرج الحق نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 4 ہزار سے زائد کارکنان پابند سلاسل ہیں، تعلیمی اداروں پر قفل ہیں، ہسپتال میں لاشوں اور زخمیوں کے انبار ہیں اور ادویات ختم ہوچکی ہیں، ایسے ماحول میں چاروں طرف مایوسی ہے تو کشمیر کے لوگ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 18 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مجسٹریٹ نے انکشاف کیا تھا کہ وادی کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد سے اب تک تقریباً 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ کشمیری عوام پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور پاکستانی حکومت امریکا کی طرف دیکھ رہی ہے، اس لیے آج فیصلہ کرنا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے آگے بڑھنا ہے یا نہیں؟۔

مجسٹریٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ’وادی کی جیلوں جگہ کا فقدان ہونے کی وجہ سے متعدد زیر حراست شہریوں کو مقبوضہ کشمیر سے باہر لے جا کر قید کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے سوال اٹھایا کہ ’آپ مقبوضہ کشمیر میں متوقع قتل عام کا تذکرہ کرتے ہیں، کیا آپ کسی اور قتل عام یا سانحہ کے انتظار میں ہیں؟ سانحہ کے بعد ’مگرمچھ کے آنسو بہانے‘ کے بعد کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here