اجمل وزیر کا مبینہ آڈیو ٹیپ کا فرانزک ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ

0

پشاور(اے ون نیوز) اجمل وزیر کی مبینہ آڈیو ٹیپ کو فرانزک ٹیسٹ کے لئے ارسال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ معاملہ تحیقات کے لئے ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن کے حوالہ کیا جائیگا۔

اس حوالے سے صوبائی چیف سیکرٹری کاظم نیاز کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔ چیف سیکرٹری آج وزیراعلیٰ کو ایک سمری تیار کرکے ارسال کریں گے۔ سمری میں مبینہ معاملہ کی تحقیقات کسی ایک ادارے سے کرانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

صوبائی معاون خصوصی بلدیات اور مشیر اطلاعات کامران بنگش کے مطابق چیف سیکرٹری کسی کابینہ رکن کے خلاف انکوائری کا مجاز نہیں ہے۔ چیف سیکرٹری سمری تیار کرکے وزیراعلی کو منظوری کے لئے بھجوائیں گے۔ وزیراعلیٰ معاملہ کی تحقیقات کے لئے آج کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کریں گے۔

خیال رہے کہ اشتہارات میں کمیشن لینے کے الزام میں گزشتہ دنوں اجمل وزیر کو مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اب معاون خصوصی کامران بنگش کو مشیر اطلاعات کی اضافی ذمہ داری دیدی گئی ہے۔اجمل وزیر اور اشتہارات کی کمپنی کے مالک کے درمیان مبینہ گفتگو ہوئی جس میں جی ایس ٹی اور ٹیکسز میں چھوٹ سے متعلق بات چیت کی گئی۔

مالک کمپنی نے کہا کہ جی ایس ٹی کتنا ہوتا ہے؟ ہر صوبے کا جی ایس ٹی الگ ہوتا ہے؟ جس پر اجمل وزیر نے کہا کہ آپ نے اس دن کہا کہ 2 فیصد ٹیکس کٹے گا۔مالک کمپنی نے کہا اشتہارات کا پورا میڈیا پلان بنایا ہوا ہے، 2 نہیں سر 10 فیصد دوں گا، جی ایس ٹی نہیں کٹے گا تو میں زیادہ دوں گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے اجمل وزیر کی مبینہ آڈیو لیک کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی تھی۔ انہوں نے فیکٹس فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات بھی دیئے تھے۔ واضح رہے کہ 3 مارچ 2020 کو وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اجمل وزیر کو یہ قلمدان سونپا گیا تھا۔

مبینہ آڈیو سکینڈل کا شکار بننے والے اجمل وزیر نے کہا ہے کہ میرے خلاف سازش ہوئی، سازشوں نے راستہ روکنے کے لیے گھٹیا طریقہ اپنایا۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کا قائل ہوں الزامات پر سامنا کروں گا۔ مختلف اجلاسوں اور بریفنگز کو ایڈٹ کرکے من گھڑت آڈیو تیار کرائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ کو ایک جگہ سے کاٹ دوسرے سرے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آڈیو کو ایڈٹ کرکے پیش کیا گیا ہے، جس بنیاد پر یہ آڈیو بنائی گئی ہے وہ اس اشہاری کمپنی کی فہرست ہے جو ٹی وی چینل کو ملنا تھا۔ اطلاعات کے رولز کے مطابق سٹیرنگ کمیٹی کا چیئرمین اطلاعات کا وزیر ہوتا ہے، سٹیرنگ کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے جس کی صدارت وزیر صحت نے کی تھی۔

سابق مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ جس معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے میرا تعلق نہیں، اشتہار محکمہ صحت کا تھا۔ چیئرمین وزیر صحت ہوتا ہے۔ میں کمیٹی میں اعزازی ممبر تھا۔ فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here