جمال خاشقجی کا قتل میرے اقتدار کے دوران ہوا،ذمہ داری قبول کرتا ہوں،سعودی ولی عہد

0

جدہ (اے ون نیوز)سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ میں جمال خاشقجی قتل کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ یہ میری اقتدار کے دوران ہوا تھا۔سعودی ریاست کے ولی عہد نے اس سے قبل استنبول میں سعودی سفارتخانے میں ہونے والے قتل کے بارے میں عوامی سطح پر کبھی بات نہیں کی تھی۔امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور دیگر مغربی حکومتوں نے الزام لگایا تھا کہ محمد بن سلمان نے قتل کے احکامات جاری کیے تھے تاہم سعودی حکام کا کہنا تھا کہ اس میں ولی عہد کا کوئی کردار نہیں تھا۔

جمال خاشقجی کے قتل پر عالمی سطح پر غم و غصہ سامنے آیا تھا جس کی وجہ سے سعودی ولی عہد کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا تھا جس کے بعد سے انہوں نے امریکا اور یورپی ممالک کا کوئی دورہ نہیں کیا۔’دی کراؤن پرنس آف سعودی عرب’ کے نام سے دستاویزی فلم کے پری ویو میں پی بی ایس کے مارٹن اسمتھ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ‘یہ میرے اقتدار کے دوران ہوا، میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں’۔

ابتدائی طور پر انکار کے بعد سعودی بیانیے نے قتل کی ذمہ داری آپریشن کرنے والے حکام پر ڈال دی تھی۔عوامی استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس وقت کے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف نے خاشقجی کو ملک واپس لانے کا حکم دیا تھا تاہم مذاکرات کا نے بحث کے دوران انہیں واپس آنے کے لیے رضامند نہ کرنے پر قتل کا حکم دیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ سابق شاہی مشیر سعود القحطانی نے اسکائپ کے ذریعے قتل کے احکامات دیے اور آپریشن سے قبل ہِٹ ٹیم کو خاشقجی کی سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی تھی۔مارٹن اسمتھ نے جب سعودی ولی عہد سے سوال کیا کہ ان کو معلوم ہوے بغیر قتل کیسے ہوا تو محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس 2 کروڑ لوگ ہیں، ہمارے پاس 30 لاکھ سرکاری ملازمین ہیں’۔

مارٹن اسمتھ نے سوال کیا کہ ‘کیا وہ آپ کا جہاز بھی لے سکتے ہیں’۔ولی عہد نے جواب دیا کہ ‘میرے پاس کئی عہدیدار، وزرا ہیں جو معاملات کو دیکھتے ہیں، وہی ذمہ دار ہیں، ان کے پاس اختیار ہے ایسا کرنے کا’۔واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے جون میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ریاض پر جمال خاشقجی قتل کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

سعودی عرب کے 11 مشتبہ افراد کو خفیہ کارروائی کرنے پر ٹرائل پر رکھا گیا تاہم اب تک صرف چند سماعتیں ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں سعودی ولی عہد اور دیگر سعودی حکام کے خلاف تحقیقات کرنے کا کہا گیا تھا۔جمال خاشقجی واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار تھے جنہیں 2 اکتوبر کو آخری مرتبہ سعودی سفارتخانے میں دیکھا گیا تھا جہاں وہ اپنی شادی کے لیے ضروری دستاویزات لینے کے لیے گئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here