حدیبیہ پیپر ملز کیس کیا ہے اور اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟،فواد چودھری

0

اسلام آباد(اے ون نیوز)وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ حدیبیہ پیپرملز کیس تقریباً 1242 ملین روپے کے فراڈ کی کہانی ہے جو بلحاظ حجم پانامہ پیپرز کیس سے بڑی ہے اور جس کی ابتداء سن 2000 میں اس وقت ہوئی جب نیب حکام نے حدیبیہ پیپرز کیخلاف ایک ریفرنس دائر کیا۔

تحیقات سے پتہ چلاکہ ملز انتظامیہ جو میاں محمد شریف، شمیم اختر، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مریم صفدر، صبیحہ عباس، حسین نواز اور حمزہ شہباز پر مشتمل ہے کی تجوریوں میں بھاری بھرکم غیرقانونی سرمایہ موجود ہے اور وہ اس دولت کے ذرائع بتانے سے قاصر ہیں۔

ان لوگوں نے منی لانڈرنگ کیلئے 1992 کے دی پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ کی مختلف شقوں کا سہارا لیکر دھوکے سے بیرونی کرنسی کے مختلف جعلی کھاتے کھولے اور بہت سی دولت ان کھاتوں میں جمع کروائی۔

جب یہ جعلی اکاؤنٹس کا بھانڈا پھوٹ گیا تو انہوں نے یہ پیسہ حدیبیہ پیپر ملز کے اکاؤنٹس میں اس طرح براہِ راست ڈالنے کا فیصلہ کیا،اس مقصد کیلئے انہوں نے اس مل کے اکاؤنٹس کیلئے اس بیرونی کرنسی کی مالیت کے برابر مختلف ڈالر ٹیلی گرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا بندوبست کیا۔

بالکل اسی طرح جیسے ابھی شہباز شریف اور مریم نواز کی رقوم پاکستان سے باہر بھیجی گئیں، 1242.732 ملین روپے اچانک شریف فیملی کے اثاثوں میں آگئے یہ رقم پانامہ اسکینڈل سے بھی بڑی تھی۔

نیب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مزکورہ واردات کے ذریعے شریف خاندان کے ان نامزد افراد نے منی لانڈننگ اور اثاثے چھپانے جیسے گناہ ہی نہیں کئے بلکہ یہ بہت سے ریاستی و حکومتی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں

مشرف دور میں جب یہ معاملہ احتساب عدالت کے روبرو آیا کیس کے دوران ہی شریف فیملی نے مشرف حکومت کے ساتھ ڈیل کی اور سعودی عرب چلے گئے،9/2008 میں معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا لیکن پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے مک مکا نےکیس ہھر رکوا دیا۔کہا گیا کیس نہیں چل سکتا چئرمین نیب کے دستخط نہیں ہیں

شریف خاندان نے کارروائی کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلینج کیا تو 2 رکنی ڈویژن بنچ نے 1،1 سے منقسم فیصلہ سنایا یوں معاملہ ریفری جج کے پاس چلا گیا جس نے مقدمے کی بندش کا فیصلہ کرنے والے ڈویژن بنچ کے جج کی رائے کی حمایت کا فیصلہ دیا، اور مقدمہ 2014 میں بند کردیا گیا

دلچسپ بات یہ تھی کہ اتنی تفصیلی تفتیش کے بعد اس کیس کا ایک دن بھی عدالتی ٹرائل نہیں ہوا، جس جج نے کیس بند کرنے کا فیصلہ دیا پانامہ اسکینڈل میں انکشاف ہوا کہ ان جج صاحب کے اپنے اثاثے بھی بیرون ملک تھے، بدقسمتی سے ان جج صاحب کے خلاف بھی کوئ کاروائ نہیں ہوئ۔

اس مقدمے میں اب کچھ نئے حقائق بھی سامنے آئے ہیں جن پر نئ تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے امید ہے عدلیہ ان ججوں پر بھی کاروائ کرے گی جنہوں نے شریف فیملی کی معاونت کی، انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں، پاکستان کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے وابستہ ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here