سعودی حکام کا مسجد الحرام کو جلد کھولنے کا عندیہ،عازمین کے لئے کیا ضروری شرائط ہوں گی تمام تفصیلات آ گئیں

0

مکہ مکرمہ (اے ون نیوز)سعودی حکام نے مسجد الحرام کو جلد کھولنے کا عندیہ دے دیا، جلد عمرہ ادائیگی کی اجازت بھی دے دیے جانے کا امکان،منتظمین عازمین کے ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے پلان ترتیب دینے میں مصروف، مسجد الحرام کو جزوی طورپرکھولاجائے گا۔ تفصیلات کے مطابق سعودی حکام نے مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ میں دوبارہ سے عمرہ ادائیگی کی اجازت دینے کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں بھارت میں ٹک ٹاک سمیت چین کی 59 ایپلی کیشنز پر پابندی

اس حوالے سے العربیہ کی جانب سے رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی مقامی میڈیا کے مطابق مسجد الحرام کو جزوی طور پر کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ جبکہ کئی ماہ بعد خانہ کعبہ میں عمرہ ادائیگی کی اجازت بھی دے دیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں پولیس کے بہادر جوان نے کس طرح کراچی میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا؟..ویڈیو

اس حوالے سے مسجد الحرام کے منتظمین کی جانب سے باقاعدہ پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔ عمرہ ادائیگی کی اجازت دینے اور مسجد الحرام کو کھولنے کی صورت میں عازمین کے حجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان سٹاک ایکس چینج حملے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ اور اب کہاں ہے سیکیورٹی اداروں نے پتہ لگا لیا

بتایا گیا ہے کہ مسجد الحرام کو صرف 40 فیصد صلاحیت تک کھولا جائے گا۔ مسجد الحرام کی گنجائش کے مطابق صرف 40 فیصد عازمین کو داخلے اور عمرے کی ادائیگی کی اجازت ہوگی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ مسجد الحرام جانے کے خواہش مند افراد کو پہلے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ مسجد الحرام آمد پر جن عازمین کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہوا انہیں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں شہزادہ ہیری اورمیگھن نے ذریعہ معاش ڈھونڈلیا

عازمین کو لازمی فیس ماسک پہننا ہوگا اور دیگر احتیاطی تدابیر پر بھی عمل کرنا ہوگا۔ مسجد الحرام کے داخلی راستوں پر تھرمل کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ مسجد الحرام میں داخلے اور خروج کیلئے الگ الگ راستے مقرر کیے جائیں گے۔ عازمین کو گراونڈ، پہلی اور دوسری منزل پر طواف کرنے کی اجازت ہوگی۔ طواف کیلئے معذور اور خصوصی افراد کیلئے دوسری منزل مختص کی جائے گی۔ جبکہ جمعہ کے روز صحن کے مرکز میں لوگوں کو طواف کی اجازت نہیں ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here