سپانسرشپ معاہدوں کی تفصیل شیئرنہ کرنے پرپی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائززکے مابین کشیدگی بڑھنے لگے

0

لاہور(اے ون نیوز ) سپانسر شپ معاہدوں کی تفصیل شیئر نہ کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور پاکستان سپر لےگ (پی اےس اےل) فرنچائززکے مابےن کشےدگی بڑھنے لگے،پی سی بی نے مالی ذمہ داریاں اور سپانسر شپ معاہدوں کی تفصیل شیئر نہ کرنے پر تین ٹیموں کو بات چیت کے عمل سے ہٹا دیا ۔28 جولائی کو شیڈول گورننگ کونسل کی میٹنگ آخری لمحات میں ملتوی ہونے پر فرنچائزز نے پی سی بی کو سخت ای میل بھیج کر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا،

اس کے جواب میں مفاہمتی انداز اپنانے سے گریز کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے مزید سخت جواب بھےجا تھا۔پاکستان سپر لےگ (پی اےس اےل)کے ایگزیکٹیو شعیب نوید نے پی اےس اےل مےں شرکت کرنے والی ٹےموں کے مالکان کوجو ای میل بھےجی ہے اس میں کہا گےا ہے کہ گورننگ کونسل کی گذشتہ میٹنگ میں واضح طور پر یہ طے ہو گیا تھا کہ بات چیت کو آگے بڑھانے کےلئے فرنچائزز کو پہلے مالی ذمہ داریاں مکمل اور سپانسر شپ معاہدے پی سی بی کوجمع کرانا ہوں گے،

حاصل شدہ معلومات اور آڈٹ شدہ اکاﺅنٹس جاری بات چیت میں آگے بڑھنے کا اہم ذریعہ ہیں، کئی اہم معاملات جیسے ڈالر کے ریٹ پر حتمی فیصلہ گورننگ کونسل میٹنگ میں ہونا ضروری ہے۔پی اےس اےل کے ایگزیکٹیو شعیب نوید کی جانب سے جو ای مےل فرنچائزز مالکان کو کی گئی ہے اس میں مزید لکھا ہے کہ اس معاملے پر فرنچائزز سے اصل تبادلہ خیال27 جولائی کو ہواتھا، اس کے فوراً بعد پی سی بی نے کنسلٹنٹ سے میٹنگ کی درخواست کر دی اور فرنچائزز نے جو نکتے اٹھائے ان کا بروقت جواب دے دیاگےا،

جن تین ٹیموں نے اپنی مالی ذمہ داریاں مکمل اور ضروری دستاویزات جمع کرا دی ہیں اب ہم ان کے ساتھ ہی معاملات آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں،انھیں اس حوالے سے جلد آگاہ کر دیا جائے گا، ہم فرنچائزز کی اس بات سے متفق ہیں کہ ذمہ داریاں مکمل کرنے والی ٹیموں کو بھی دیگر کی وجہ سے پریشانی کیوں اٹھانا پڑے؟ نادہندہ ٹیموں کے نمائندے اب کسی بات چیت کا حصہ ہوں گے نہ ہی انھیں کسی مثبت فیصلے سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here