لڑکا یا لڑکی؟ ٹیسٹ ٹیوب بے بی طریقہ کار سے پاکستان میں ایسا ممکن

0

لاہور(اے ون نیوز) ملک کے ممتاز گائنا کاولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر ثاقب صدیق نے انکشاف کیا ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی طریقہ کار میں سائنس نے ایسا ممکن کر دیا ہے کہ کوئی بھی جوڑا اپنی خواہش اور رضا کے مطابق لڑکا یا لڑکی پیدا کر سکتا ہے ایسا صرف 19 دنوں کے علاج سے ممکن ہے۔

پروفیسر ثاقب صدیق پنجاب کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں بطور گائنا کالوجسٹ فرائض سر انجام دے چکے ہیں آج کل فرٹیلیٹی اینڈ آئی وی ایف سینٹر مڈ سٹی ہسپتال لاہور کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اپنی خدمات دے رہے ہیں۔مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حقیقی میاں،بیوی کے مادہ تولید سے پیدا ہونے والا ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز ہے جو بچہ جدید مشینری آلات اور طبی علوم کو بروئے کار لاتے ہوئے میاں بیوی کے مادہ تولید کو ملا کر پیدا کیا جاتا ہے وہ اسلامی احکامات کے مطابق جائز اور اس کا طریقہ کار درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش کے بعد جدید علوم سے یہ بھی تجربہ کامیاب رہا ہے کہ حقیقی میاں بیوی اپنے مادہ تولید سے فی میل بے بی لینا چاہتے ہیں یا میل بے بی کی پیدائش کے خواہش مند ہیں۔ہم نے اپنے سینٹر میں ایسے سینکڑوں بچوں کی پیدائش کو ان کے ماں باپ کی خواہش کے مطابق ممکن بنایاہے۔انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ایسے مرد جن کے سیمنز جن میں بچہ پیدا کرنے کے سپرم موجود نہیں ہوتے ان کے ٹیسٹس (گولیوں) سے مادہ تولید لے کر بچے پیدا کر کے دکھائے ہیں۔

میاں بیوی جن کے ہاں اس طریقہ کار کے تحت بچے پیدا کرائے جاتے ہیں اس میں ضروری ہوتا ہے کہ مرد کے سپرم موجود ہوں اور عورت کے مادہ تولید میں انڈے اگر ان میں سے کسی ایک میں انڈے یا سپرم نہ ہوں تو ایسے میاں بیوی کے ہاں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بچے کی پیدائش نا ممکن ہوتی ہے۔جس مرد کے ٹیسٹس میں بھی سپرم نہ ہو وہ مرد بانچھ ہوتا ہے تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں مرد ذیادہ بانچھ ہوتے ہیں جن کی اوسط 40,60ہے ایسے حقیقی میں بیوی جو اپنی پسند کے جینڈر کی سلیکشن چاہتے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورت کو جب ماہواری شروع ہو جائے تو وہ فوری طور پر سینٹر آکر اپنا علاج کروائیں۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر ثاقب صدیق نے کہا کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ایسے ہیجڑے جن میں نیچرل طور پر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے ان میں بھی ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش ممکن ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے کسی مرد یا عورت کا مادہ تولید تبدیل ہو سکتا ہے ایسی عورت جس میں پیدائش کے لیے انڈے نا بنتے ہوں یا ایسا مرد جس کے مادہ تولید میں بچے کا باعث بننے والے سپرم موجود نہ ہوں اور انہیں ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بچہ لینے کے لیے ان کا مادہ تولید تبدیل کیا جا سکتا ہے ایسا ممکن نہیں ہے۔

اس کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ موجود ہے یہ ٹیسٹ بتا سکتا ہے کہ بچے کا والد یا ماں کون ہے لہٰذا ایسا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر ایسا جرم کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اولاد نہ ہونے کا ذمہ دار میاں بیوی میں کسی ایک کوٹھہرایا نہیں جا سکتا اس کے ذمہ دار دونوں ہیں دونوں میں فالٹ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ علاج کوئی مہنگا نہیں، مستحق اور غریب افرادکو ہم صاحب اولاد بنانے کے لیے ہر طرح کی سہولت فراہم کرتے ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here