پاکستان میں کورونا سے مزید6 اموات، ہلاکتیں 61 ہوگئیں، مجموعی کیسز 4207 تک جا پہنچے

0

کراچی(اے ون نیوز) ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 4187 ہوگئی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 58 تک جاپہنچی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 3076 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیئے گئے جن میں سے 208 میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اس طرح پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 4187 ہو گئی ہے۔

کہاں کتنے مریض ؟
اعداد و شمار کے مطابق اب تک پنجاب میں 2132 ،سندھ 932، بلوچستان 210 ، خیبر پختونخوا میں 500 ، آزاد کشمیر28، اسلام آباد میں 83 اور گلگت بلتستان میں 211 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

مزید 4 افراد جاں بحق
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کورونا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے ، اس طرح وطن عزیز میں اس مہلک وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 58 ہوگئی ہے جب کہ 25 کی حالت تشویشناک ہے تاہم 467 افراد اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

عراق میں پھنسے 136 پاکستانی واپس آگئے
عراق میں پھنسے 136 پاکستانی قومی ایئر لائن کی خصوصی پرواز کے ذریعے وطن واپس آگئے ہیں۔ پی آئی اے کی خصوصی پرواز پی کے 9814 عراق میں پھنسے 136 مسافروں کو لے کر اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ پہنچی۔ ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم نے مسافروں کا طبی معائنہ اور اسکریننگ کی۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر
کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here