کروڑوں مرغیاں امریکیوں کی زندگیا ں کس طرح بچا رہی ہیں؟

0

نیو یارک(اے ون نیوز)کیا آپ یقین کریں گے کروڑوں مرغیاں اور ان کے ‘گھر’ امریکا کی قومی سلامتی کا معاملہ بن سکتے ہیں؟ مگر یہ حقیقت ہے۔جی ہاں واقعی یہ مرغیاں ہر سال لاتعداد امریکی شہریوں کی زندگیاں بچانے کا کام کرتی ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے وہ کسی کو معلوم نہیں۔

سی این این کے مطابق امریکا میں یہ لاکھوں یا کروڑوں مرغیاں سال کے 365 دن جو انڈے دیتی ہیں وہ فلو کے خلاف ویکسین کی تیاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔حال ہی میں فلو کے سیزن (فروری کے آخر تک) 14 کروڑ انڈے ویکسینز کی تیاری کے لیے استعمال ہوئے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں، ایک مرغی روزانہ ایک ہی انڈا دیتی ہے۔

امریکا میں ہر سال فلو کے نتیجے میں 10 ارب ڈالرز علاج یا دیگر امور پر خرچ ہوتے ہیں۔ان مرغیوں کی لاگت کتنی ہے، وہ تو عوام کے سامنے نہیں لائی گئی مگر امریکا کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومین سروسز (ایچ ایچ ایس) اور ایک نجی کمپنی کے درمیان 4 کروڑ ڈالرز کا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت پورا سال انڈوں کی فراہمی کی جاتی ہے۔اور یہ صرف معاہدہ نہیں بلکہ متعدد ہیں تو کروڑوں اربوں ڈالرز ہوں گے۔

واشنگٹن کے بائیومیڈیکل ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر رک برائٹ نے این پی آر کو بتایا کہ 2001 میں ایوین فلو وبا کے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ امریکا کسی وبا کے لےی تیار رہے اور اس مقصد کے لیے امریکی حکومت بڑی تعداد میں مرغیوں کی خریداری کی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ مرغیاں کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا ‘نامعلومات مقامات پر متعدد فارمز موجود ہیں، آپ تصور کرسکتے ہیں، یہ ہماری قومی سلامتی کا معاملہ ہے’۔

جب ان سے مرغیوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا ‘یہ بھی قومی سلامتی کا راز ہے’۔انہوں نے بتایا کہ مرغیوں کے انڈے سے تیار ہونے ووالی ویکسین حیران کن حد تک نازک، حساس اور مہنگا عمل ہوتا ہے، جس کے لیے ہزاروں انڈوں کی ضرورت ہے اور اس کے لیے مرغیوں کو 24 گھنٹے کام کرنا پوتا ہے۔یہ انڈے فارم سے فارماسیوٹیکل کمپنی میں جاتے ہیں جہاں ویکسین کی آزمائش ہوتی ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے ویکسین کو مختلف کمپنیوں سے تیار کروایا جاتا ہے جس کے لیے حکومت کی جانب سے انڈے فراہم کیے جاتے ہیں۔ویکسین تیار کرنے کے لیے انڈے میں ایک سوئی سے سوراخ کیا جاتا ہے اور فلو وائرس اس میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، جس کے بعد سوراخ کو سیل کرکے انڈے کو 10 دن کے لیے رکھ دیا جاتا ہے۔

یہ وائرس انڈے کی سفیدی میں نشوونما پاتا ہے اور پھر انڈے کی سفیدی کو الگ کرلیا جاتا ہے، جس کے بعد وائرس کو مار کر دیٹرجنٹ کا اضافہ ہوتا ہے اور ویکسین تیار ہوجاتی ہے۔رک برائت کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کی جانب سے ویکسین کے دیگر تیز تر ذرائع کو تلاش کیا جارہا ہے جس کے بعد مرغیوں کو ‘ریٹائر’ کردیا جائے گا۔دوسری جانب ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسر جان نکولس کا کہنا ہے کہ یہ انڈے کورونا وائرس کے لیے کارآمد نہیں کیونکہ اس کی ساخت فلو سے مختلف ہے اور وہ انڈے کی سفیدی میں اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here