کالم

حکومت کی نیت ۔۔۔تحریرستار چوہدری

رانا ثناءاللہ،مریم اورنگزیب اور دیگر اتحادی وزرا کا شکریہ جنہوں نے میرا تیس سال پرانا مسئلہ حل کردیا،میں رات کو اتنا خوش ہوا اکیلے بیٹھا قہقہے لگا لگا کر ہنستا رہا،اب بھی ہنسی کنٹرول نہیں ہورہی،کچھ دوستوں نے وجہ بھی دریافت کی،بتایا نہیں،سوچا سب کو بتادوں۔دراصل خوشی اور غمی انسان کی ذہنی کیفیت کا نام ہے،آپ برے دنوں میں خوش ،اچھے دنوں میں افسردہ رہ سکتے ہیں۔دراصل میری ہنسی میری بچپن کی معصومیت اور لاعلمی ہے۔

میں غالباً آٹھویں کلاس کا طالبعلم تھا،گھر،سکول اورکھیت میری دنیا تھی۔سکول اور گھر کی مشترکہ دیوار تھی۔ہم نے اس دیوار سے ایک چھوٹی سے کھڑکی رکھی ہوئی تھی جہاں سے سکول جاتے تھے۔شہر کے سکول میں پڑھنے کے بس خواب ہی دیکھتے تھے۔سکول سے فارغ ہوکرکھیتوںمیں چلے جاتے،ابا جی کا ہاتھ بٹاتے۔ہمارے گھر کا صحن کافی بڑا تھا،آخر میں تین کمرے،درمیان میں لمبا صحن،آخر میں گیٹ کے ساتھ بیٹھک ہوتی تھی،صحن کے درمیان نیم کا بڑا درخت،ساتھ نلکا تھا۔ایک دن کیا ہوا میں گھر میںاکیلا ہی تھا۔جون کے دن،سخت دھوپ،دوپہر کا ایک بجا تھا،

ایسے وقت میں انسان تو کیا پرندے بھی درختوں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ہمارے محلے کی ایک لڑکی’’ گڈو‘‘ ہمارے گھر آگئی،میں اس وقت نلکے سے پانی پی رہا تھا،وہ نلکے کی جانب بڑھی تو میں پیچھے ہٹ گیا،اس نے پانی پیا،منہ دھویا،میری طرف دیکھ کر کہنے لگی ’’ مینوں چھیڑی،چھوڑیں نہ‘‘ ( مجھے چھیڑنا نہیں)۔میں اس کی بات پر ہکا بکا رہ گیا کیونکہ میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔ میںایک معصوم سا طالبعلم،وہ ایک بڑی میچور لڑکی،مجھ سے کئی سال بڑی۔ میرا اس سے کوئی جوڑ نہیں تھا،میں ڈر کے مارے اور پیچھے ہٹ گیا،وہ مجھے کچھ دیر دیکھتی رہی،جب اسے مکمل یقین ہوگیا کہ یہ نہیں چھیڑے گا تو وہ تیز چلتی ہوئی گھر سے چلی گئی۔میں کمرے میں آکر پنکھا چلا کر لیٹ گیا،بار بار سوچتا رہا،یہ کیا ہوا؟ میری تو کوئی ایسی نیت نہیں تھی،اس نے مجھے ایسا کیوں کہا کہ’’ مینوں چھیڑی،چھوڑیں نہ‘‘ ۔وقت گزر گیا،یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے یاد رکھا جائے۔ہم آگے پڑھتے رہے،کالج پہنچ گئے،اس کی شادی ہوگئی۔آج مجھے تیس سال بعداتحادی حکومت کی وجہ سے’’ گڈو‘‘ یاد آگئی۔ اور اس کا ڈائیلاک ’’ مینوں چھیڑی،چھوڑیں نہ‘‘ ۔


رانا ثناءاللہ حکیم کی دوائی کی طرح دن میں تین بار پریس کانفرنس کرکے کہتے ہیں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اگر ریڈ زون میں آیا تو سختی سے نمٹا جائے گا،عمران خان ملک میں خون خرابہ چاہتے ہیں۔یہ دوباتیں کئی دن سے روزانہ تین مرتبہ بتاتے ہیں۔رانا ثنا جاتے ہیں تو یہی ڈائیلاک بولنے کیلئے وزیر دفاع خواجہ آصف آجاتے ہیں،خواجہ صاحب جاتے ہیں مریم اورنگزیب آجاتی ہیں،مریم صاحبہ جاتی ہیں طلال چوہدری آجاتے ہیں،ان کے جاتے ہی شیریں رحمان،نوید قمر اور شازیہ مری آجاتی ہے۔اُدھر سے ایمل ولی خان اور فضل الرحمٰن بول اٹھتے ہیں۔لندن سے نواز شریف اور مریم نواز کا بیان آجاتا ہے۔بس وہی دو ڈائیلاک۔ریڈ زون میں آئےتو سختی سے نمٹا جائے گا،عمران خان خون خرابہ چاہتا ہے۔حالانکہ عمران خان کا ریڈ زون میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں،وہ کئی بار اعلان کرچکے ۔رہا خون خرابہ،کپتان ایسا کیوں کرے گا؟اس کے لانگ مارچ میں تو فیملیاں شامل ہیں،جن میں بوڑھے،خواتین،بچے شامل ہیں۔پہلے بھی کتنے احتجاج،ریلیاں،لانگ مارچ کرچکے کبھی خون خرابہ ہوا؟عمران خان اگر خون خرابہ چاہتے ہوتے تو25 مئی کو لانگ مار چ ملتوی نہ کرتے۔کیونکہ اس وقت حکومت کا مکمل پروگرام تھا خون خرابہ کرادیا جائے۔کچھ دہشتگردوں نے مارچ میں شامل ہوکر حالات خراب کرنے تھے۔اب حکومت کا کیا مسئلہ ہے؟اس میں کوئی دوسری رائے نہیں حکومتی اتحاد عمران خان سے سیاسی میدان میں شکست کھا چکا ہے،اگر آج انتخابات ہوجائیں پی ٹی آئی دو تہائی سے زیادہ نشستیں حاصل کرلے گی،ضمنی الیکشن نے عوام کا موڈبتا دیا

ہے۔حکومت الیکشن سے فرار چاہتی ہے،ان کی کوشش ہے ایسے ہی کام چلتا رہا ،شاید کوئی معجزہ ہوجائے اور عمران خان عوام میںغیرمقبول ہوجائے،لیکن ایسے کہیں آثار نظر نہیں آرہے،اللہ نہ کرے ایسا ہو،بہرحال حکومت کی خواہش ہے خون خرابہ ہوجائے،ایمرجنسی لگ جائے،عمران خان پر قتل وغارت کے الزامات لگ جائیں اور وہ منظر عام سے ہٹ جائے۔کوئی دو،تین سال بعد الیکشن ہوں اور وہ دوبارہ اقتدار میں آجائیں۔حکومت کی نیتوں کا ایسے ہی پتا چل رہا ہے جب بار بار کہہ رہے ہیں ریڈ زون میں آئے تو سخت اقدامات کرینگے،عمران خان خون خرابہ چاہتے ہیں،یہ وہی ’’ گڈو‘‘ والی نیت ہے ’’ مینوں چھیڑی،چھوڑیں نہ ‘‘ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button