تازہ ترینشوبز

سشانت کی موت سے متعلق نیا ہنگامہ خیز انکشاف، مردہ خانے کا ملازم سامنے آگیا

بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے حوالے سے ایک اور ہنگامہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس اسپتال میں اداکارہ کی لاش رکھی گئی اس کا ملازم سامنے آگیا ہے۔

خیال رہے کہ 14 جون 2020 کو 34 سالہ اداکار سشانت سنگھ راجپوت ممبئی میں اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے جس کے بعد ان کے مداحوں کی جانب سے سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے پر سی بی آئی سے تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

بعد ازاں سشانت گھر والوں نے ان کی دوست ریا چکرورتی کو اداکارکی خودکشی کی وجہ قرار دیا تھا اور ان کے خلاف بہار میں مقدمہ بھی درج کرایا تھا جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بالی وڈ اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کی تحقیقات بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو دینے کا حکم دیاتھا تاہم اب تک تحقیقات میں موت کی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔

اب جس اسپتال میں سشانت سنگھ راجپوت کی لاش رکھی گئی تھی اس کے مردہ خانے کا ایک ملازم سامنے آگیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ANI سے گفتگو کرتے ہوئے ممبئی کے کوپر اسپتال کے مردہ خانے میں کام کرنے والے روپ کمار شاہ نے کہا کہ ’جب میں نے سشانت سنگھ راجپوت کی لاش دیکھی مجھے یہ خود کشی کا معاملہ نہیں لگا۔‘

روپ کمار نے مزید بتایا کہ ’مجھے 28 سال سے زائد کا تجربہ ہے، سشانت کی باڈی میں زخموں کے نشانات تھے، میں اپنے سینیئر کے پاس گیا اور انہیں یہ سب بتایا لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بعد میں بات کریں گے۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’میں 28 سال سے لاشیں دیکھ رہا ہوں، سشانت کے جسم پر ایسا کوئی نشان نہیں تھا جو عام طور پر پھندا لگاکر خودکشی کرنے والے کے جسم پر ہوتا ہے، اس کے جسم پر فریکچرز کے نشانات تھے، پوسٹ مارٹم میں کیا لکھنا ہے یہ تو ڈاکٹر کا کام ہے، سشانت کو انصاف ملنا چاہیے۔‘

روپ کمار نے کہا کہ سشانت سنگھ راجپوت کی تصویر دیکھ کر کوئی بھی آسانی سے یہ بتا سکتا ہے کہ انہیں قتل کیا گیا، اگر تحقیقاتی ایجنسی مجھے بلائے گی تو میں انہیں بھی یہ سب بتاؤں گا۔‘

خیال رہے کہ سشانت سنگھ راجپوت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنے کو قرار دیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم ممبئی کے اسی اسپتال میں کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button