پاکستانپنجابتازہ ترین

سب کو رولاوں گا کہنے والا آج خود بچوں کی طرح چیخیں مار رہا ہے،مریم نواز

ملتان(اے ون نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے حکومت کرنا تو نواز شریف سے نہیں سیکھا کم از کم اب اپوزیشن کرنا تو سیکھ لیتے ۔ دو دن کی جیل کاٹنے پر ہی انکے آنسو نکل رہے ہیں ہیں ۔

سب کو رولاوں گا کہنے والا آج خود بچوں کی طرح چیخیں مار رہا ہے ۔ ایسا نہ کرو بھائی ترس آرھا ھے ۔ دل کرتا ھے کہ چندہ جمع کرکے ٹشو پیپرز کا ٹرک بھیجوا دوں ۔ ہمیں سزائے موت کی چکیوں میں ڈالا گیا ، باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا مگر ہمارے آنسو نہیں نکلے ۔ گھڑی چور کو آج پوری قوم پہچان چکی ہے ۔ پانچ کے ٹولے نے جس سانپ کو پالا آج وہ سانپ انہی کو ڈس رھا ہے ۔ اس سانپ نے چار سال تک پاکستان کو بھی ڈسا ہے ۔ پہلی بار بے فیض ہوا تو کہیں کا نہیں رہا ۔ جیل بھرو تحریک اگر شروع کرنے کا شوق ہے تو سب سے پہلے عمران خان اپنی ضمانتیں کینسل کروائے ۔ جیل بھرو تحریک شروع کرنے والا خود چار سال تک اپنی جیب بھرو تحریک چلاتا رہا ۔ جیل بھرو تحریک شروع کرنے والا خود زمان پارک میں بنکر بنا کے چھپا بیٹھا ہے اور خواتین کو اپنی حفاظت پر مامور کیا ہوا ہے ۔ سیاست میں دل بڑا ہونا چاہیے رو نے والوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا الیکشن میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ملتان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ ملتان کے شہریوں کا جوش و خروش دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا دن ہے ہے ہم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ بھارتیوں نے اپنے مظالم سے وادی کشمیر کو لہو لہو کر دیا ھے مگر وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ھو گا ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس تنظیمی جلسے کو کون تنظیمی جلسہ کہہ سکتا ہے یہ تو جلسہ عام بن چکا ھے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ مہنگائی تکلیف دہ حد تک بڑھ چکی ہے ۔ غریب کے لیے آٹا دال گھی اور سبزی لینا مشکل ھوچکا ھے ۔ میرا دل عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔ یہ مہنگائی کا عذاب ہمیں عمران خان کی شکل میں کیے گئے تجربے کی وجہ سے ملا ہے ۔ نواز شریف کو 3 بار حکومت ملی ۔ پہلی بار اڑھائی سال دوسری بار تین سال اور تیسری بار چار سال بعد ختم کر دی گئی ۔ پاکستان کے 75 سالوں میں سے اگر یہ نو سال نکال دیئے جائیں تو پھر باقی کھنڈرات ہی بچتے ہیں ۔ نواز شریف نے ملک کو ترقی دلائی اور ملک کو نہ صرف معاشی طور پر مضبوط کیا بلکہ اسے ایک ایٹمی قوت بھی بنایا ۔ ملک میں موٹرویز اور سڑکوں کا جال بچھایا گیا ۔

سی پیک لایا گیا ۔ 2013 میں جب ہماری حکومت آئی تو سازشیں اسی وقت سے شروع کر دی گئیں ۔ آج جنرل باجوہ ریٹائرمنٹ کے بعد خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ان سے عمران خان کی شکل میں ایک بڑا بلینڈر ہوگیا ہے ۔ گھڑی چور نے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک صرف تباہی پھیلائی ہے ۔ صرف بلنڈر کہہ دینا کافی نہیں ہے ۔ ملک کو لگے اس داغ کو اب دھونا بھی پڑے گا ۔ اس گھڑی چور کو میدان سیاست سے اٹھا کر باہر پھینکنا ہوگا ۔ اس پانچ کے ٹولے نے جو سانپ پالا آج وہی سانپ انہیں بھی ڈس رہا ہے ۔ اس سانپ نے چار سال تک پورے ملک کو بھی ڈسا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کر کے اب یہ اپوزیشن میں آتے ہی بچوں کی طرح رو رہے ہیں ۔ ٹکر کے لوگ زمین پر بیٹھ کر بچوں کی طرح روتے نہیں ھیں ۔ یہ پہلی بار بے فیض ہوئے ہیں تو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں جب تک فیض تھا تو سیاست بھی تھی آج فیض نہیں رھا تو سیاست بھی نہیں رہی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن کرنی ہے تو پھر بھی عمران کو نواز شریف سے ہی اپوزیشن سیکھنا ہو گی ۔ نواز کی بہادری کو سب نے دیکھا ہے ۔ اپنی بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر جیل چلا گیا ۔ بیٹی کو باپ کے سامنے گرفتار کیا گیا مگر کسی نے اسے روکتے نہیں دیکھا ۔ میں سینہ تان کر نوازشریف پر فخر کرتی ہوں ۔پوری مسلم لیگ ن کو جبر اور انتقام کی نشانہ بنایا گیا ۔ مجھے سزائے موت کی چکیوں میں بند رکھا گیا ۔ رانا ثنااللہ شاہد خاقان عباسی پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ۔

خواجہ سلمان رفیق خواجہ سعد رفیق پر جھوٹے مقدمات قائم کرکے گرفتار کیا گیا ۔ جاوید لطیف پر بھی مقدمات بنائے گئے احد چیمہ پر بھی مقدمات بنے ۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو ناجائز بے گناہ جیلوں میں دو دو سال تک جیل میں ڈالا گیا گیا مگر کوئی بھی نہیں رویا ۔ احسن اقبال پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا مگر پھر بھی کوئی نہیں رویا ۔ مگر یہ دو دن کے اندر ہی رونے لگے ۔ ہم کوئی انتقام نہیں لے رہے مگر عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ مکافات عمل ضرور ہوتا ہے ۔ پانچ کے ٹولے نے دنیا کا نظام بنایا مگر ایک نظام اللہ کا ہے آج اس نظام نے نے اپنا کام دکھایا اور یہ گھڑی چور پوری قوم کے سامنے بے نقاب ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کو جیل میں ڈالنے کا شوقین عمران خان خود زمان پارک کے بنکر میں چھپ کر بیٹھا ہے ۔ اپنی خواتین اور کارکنوں کو زمان پارک کے باہر بٹھا رکھا ہے ۔ اگر جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا شوق ہے تو سب سے پہلے عمران خان اپنی ضمانت کینسل کر آئے ۔ عمران خان کا حساب اس دنیا میں ہی ہو جائے گا ۔ عمران خان کو کہتی ہوں کہ ذرا حوصلہ کرو اور اگر حوصلہ بھی سیکھنا ہے تو وہ نواز شریف سے سیکھ لو ۔ تو انہوں نے کہا کہ الیکشن جب بھی ہوئے مسلم لیگ ن پورے ملک میں کلین سویپ کرے گی ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی جنرل سیکریٹری سردار اویس خان لغاری نے کہا کہ مخالفین نے ن لیگ کو دبانے کے لئے جو سازش رچائی تھی آج عوام نے وہ سازش ناکام بنا دی ھے ۔ عمران خان کی حقیقت کھل کے سب کے سامنے آگئی ہے ۔ آئندہ الیکشن صرف مسلم لیگ ن کا ہی ہوگا ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ڈویژنل صدر عبدالرحمان کانجو نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ہمیشہ پاکستان کے استحکام کی بات کی ہے ۔ ماضی کے حکمرانوں نے پاکستان کو تباہی سے دوچار کیا ہے ۔ اب ہم پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کرنے پر لگے ہیں آئندہ وقت پاکستان کی ترقی کا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ڈویژنل جنرل سیکریٹری شیخ طارق رشید نے کہا کہ پاکستان کی ترقی میں سازش کے تحت رکاوٹیں ڈالی گئی ۔ قوم پر عمران خان کو مسلط کیا گیا ۔ عوام سچ جان چکی ھے ۔ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن ہی کلین سویپ کرئے گی ۔

مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق ٹکٹ ہولڈر پی پی دو سو انیس رانا اقبال سراج نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ملک و قوم کو ہمیشہ ترقی دی ہے آئندہ بھی ملکی معیشت کو مسلم لیگ ن ہی اوپر لے کر جائے گی ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سعد خان کانجو نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ملک کی ترقی میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ آج ملتان کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے ۔ مریم نواز کے استقبال سے ثابت ہو گیا ہے کہ ملتان مسلم لیگ ن کا ہی قلعہ ہے ۔ سابق ایم این اے جاوید علی شاہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے آئندہ الیکشن میں نون لیگی کامیاب ہوگئی ۔

سابق ایم پی اے رہنما مسلم لیگ ن سلمان نعیم نے کہا کہ کہ مسلم لیگ ن عوام کے دلوں کی ترجمان جماعت ہے ۔ اس موقع پر ورکرز کنونشن سے مسلم لیگ ن کے رہنماں مشیر وزیراعظم ملک عبدالغفار ڈوگر ، سابق صوبائی وزیر چوہدری وحید آرائیں ، سینیٹر رانا محمود الحسن ، سابق صوبائی وزیر حاجی احسان الدین قریشی ، سابق گورنر ملک رفیق رجوانہ ، ملک آصف رفیق رجوانہ ، عثمان خان بابر ، میاں عامر سعید انصاری ، شاہد محمود خان ، شہزاد مقبول بھٹہ ، ملک محمد علی کھوکھر ، رانا اعجاز نون ، ملک انور علی ، مہدی عباس لنگاہ ، ضلعی صدر بلال بٹ ، ضلعی جنرل سیکریٹری شیخ اطہر ممتاز ، ملک انور علی ، شیخ خاور اکبر ، عبدالرحمن فری ، را ابرار علی ، مطیع الحسن بخاری ، منیر اختر لنگاہ ، اور دیگر بھی موجود تھے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button