نوازشریف کو کون سی بیماری لاحق ہے؟

0

لاہور(اے ون نیوز) میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا علاج امیونو گلوبین کے انجکشنز سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق وزیراعظم کے خون میں سفید خلیے چار ہزار کم ہو کر 18 ہزار پر آ گئے۔ مریم نواز کو بھی والد کی تیمار داری کیلئے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کا سروسز ہسپتال لاہور میں چیک اپ جاری ہے، ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ایک بار پھر کم ہو گئی ہے۔ سابق وزیراعظم کے مختلف ٹیسٹ لئے گئے۔ میڈیکل بورڈ نے ٹیسٹوں کی روشنی میں نواز شریف کا علاج انجیکشنز سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیکل بورڈ نے تجویز دی ہے کہ مریض کو امیونو گلوبین کے مزید 80 انجکشن لگانا ضروری ہیں، ان انجیکشنز کی مدد سے مریض کی اندرونی بلیڈنگ روکنے اور پلیٹ لیٹس بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

ادھر مریم نواز کو والد کی تیمارداری کیلئے کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مریم نواز کی ہسپتال منتقلی کا فیصلہ گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کی مشاورت سے کیا گیا۔

مریم نواز نے نواز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ امید ہے باقی فیصلے بھی ہمارے حق میں آئیں گے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ والد سے مل کر مریم نواز آبدیدہ ہوگئیں۔

مریم نواز کا بھی ہسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ بھی کروائے۔ انہیں نوازشریف کے ساتھ والے کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کا علاج کرنے والے ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کو ایکیوٹ آئی ٹی پی بیماری لاحق ہے جو قابل علاج ہے۔ یہ عمومی طور پر بچوں میں ہوتی ہے لیکن بعض اوقات بڑوں کو بھی ہو جاتی ہے۔ دوا دینے کے چار سے پانچ دن میں پلیٹ لیٹس بننا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ دس بارہ دن میں نارمل ہو جاتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here