آپ کے نام پر کس نیٹ ورک کی کتنی موبائل سمیں چل رہی ہیں ؟گھر بیٹھے آسان طریقے سے پتہ کریں

0

لاہور (اے ون نیوز )سنہ 2000 ءمیں موبائل فون کی دنیا میں انقلاب آیا اور یہ ہر کسی کی ضرورت بننے لگے ، کچھ ہی عرصہ کے دوران اس کی قیمتوں میں بھی واضح کمی آئی جس کی وجہ سے صارفین کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

اس کے ساتھ ہی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بھی شروع ہو اور کئی غیر رجسٹرڈ سمیں ٹریس ہوئیں جو کہ مختلف جرائم کیلئے استعمال کی گئیں تاہم اس کے سد باب کیلئے حکومت پاکستان نے شاندار قدم اٹھاتے ہوئے سموں کو صارف کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا اوربھر پور طریقے سے کام کرتے ہوئے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جس کے بعداسے بائیومیٹرک کر دیا گیا ۔

کوئی بھی صارف بیک وقت اپنے نام پر پانچ سے زائد سمیں نہیں رکھ سکتا تاہم اگر کوئی پانچ سمیں رکھنے کے بعد نئی سم خریدنا چاہتاہے تو اسے اپنے نام پر موجود پانچ میں سے کسی ایک سم کو بلاک کرنا لازمی ہو گا

آپ آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کے شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ ہیں تو اب یہ بالکل بھی مشکل نہیں رہاہے کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے صارفین کی آسانی کیلئے دو آسان طریقے متعارف کروائے گئے ہیں جس میں ایک ویب سائٹ کے ذریعے ہے اور دوسرا اپنے موبائل فون سے میسج کے زریعے۔

ویب سائٹ کے ذریعے سموں کی تعداد کا پتا لگانے کیلئے آپ کو پی ٹی اے کی ویب سائٹ https://cnic.sims.pk پر جانا ہو گا اور وہاں بنے ہوئے باکس میں اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھنے کے بعد نیچے دیئے گئے ”میں ربوٹ نہیں ہوں“ کے آپشن پر کلک کرنے کے بعد سب مٹ کر دینا ہے ۔اس کے بعد آپ کے سامنے ایک ٹیبل کھل جائے گا جس میں آپ کے زیراستعمال مختلف نیٹ ورکس کی تما م سموں کی تفصیلات کھل جائیں گی جس سے آپ کو مطلوبہ معلومات حاصل ہو سکیں گی ۔

میسج کے ذریعے بھی یہ پتا لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے صرف آپ کو کرنا یہ ہے کہ اپنے موبائل فون میں جا کر نیا میسج باکس اوپن کرناہے اور اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر سپیس کے 668 پر بھیج دینا ہے اور کچھ ہی دیر میں آپ کو جواب میں سموں کی تعداد موصول ہو جائے گی ۔ تو یہاں پر آپ کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس میسج کی فیس 2 روپے بمعہ ٹیکس ہے ۔

آپ کو کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ آپ کے نام پر آپ کے زیرا ستعمال سموں سے زائد سمیں ہیں تو آپ فوری طور پر متعلقہ نیٹ ورک کے کسٹمر سروس سینٹر پر رابطہ کریں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here