سعودی حکومت کا کورونا ویکسین نہ لگوانے والے غیر ملکی ملازمین کو سزا دینے کا اعلان

0

ریاض (اے ون نیوز)سعودی حکومت نے کورونا ویکسین نہ لگوانے والے غیر ملکی ملازمین کو سزا دینے کا اعلان کر دیا ۔ سعودی عرب کی وزارت برائے افرادی قوت و محنت کی جانب سے جاری ویکسین کے ضابطہ اخلاق کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے یکم اگست سے سرکاری محکموں، نجی اداروں، بازاروں اور شاپنگ مالز کے علاوہ عوامی مقامات میں داخلے کے لیے ویکسین کی شرط لازمی قرار دی جس کے بعد اب وزارت ہیومن ریسورسز نے ویکسین نہ لگوانے والے ملازمین پر بھی سخت شرائط عائد کی ہیں‘۔سعودی عرب کے محکمہ برائے افرادی قوت نے ویکسین کے ضابطہ اخلاق جاری کردیے، جس کے مطابق ویکسین نہ لگوانے والے ملازم کا اجازت نامہ منسوخ کردیا جائے گا۔

سعودی وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام ملازمین پر لازم ہے کہ وہ یکم اگست تک کم از کم کرونا ویکسین کی ایک خوراک حاصل کرلیں، بصورت دیگر انہیں دفتر آنے کی اجازت نہیں ہوگی‘۔وزارت نے واضح کیا کہ ’ سرکاری و نجی اداروں میں کام کرنے والے ان ملازمین کے ساتھ معاملہ کرنے کے ضوابط کا تقرر کیا گیا ہے، جس کے بعد نجی اداروں کو اختیار ہوگا کہ وہ ویکسین نہ لگوانے والے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کردیں۔

وزارت برائے افرادی قوت نے اعلامیے میں واضح کیا کہ ویکسین نہ لگوانے والے ملازمین کے لیے گھروں سے کام کرنے کی سہولت 9 اگست تک ہوگی، مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ادارہ ملازم کو چھٹی پر بھیجنے کا مجاز ہوگا، یہ چھٹیاں اُس کی سالانہ چھٹیوں سے منہا ہوں گی، اگر ملازم کی سالانہ چھٹیاں ختم ہو چکی ہیں یا اس کے پاس چھٹیاں باقی نہیں ہوں گی تو اُس کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔

اعلامیے میں لکھا گیا ہے کہ بیس اگست کے بعد نجی ادارے اور کمپنیاں ملازم سے ہونے والا معاہدے کو معطل یا منسوخ کرنے کی پابند ہوں گی، اگر ملازم اور ادارہ ویکسین کے حوالے سے باہمی اتفاق کرے گا تو اس صورت میں مہلت دی جائے گی اور پرائیوٹ کمپنی کو 20 اگست کے بعد اختیار ہوگا کہ وہ ملازم کے ساتھ معاہدہ ختم کردیں۔وزارت نے اداروں پر واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل کارکن کو پیش گی اطلاع دینے کا پابند ہوگا، بغیر اجازت اگر کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی تو ضابطے کے تحت ادارے کے خلاف کارروائی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here