اہم خبریںتازہ تریندنیا

سپین کا پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان — کیا بیلجئیم بھی ایسا قدم اٹھائے گا؟

برسلز(مرزا عمران بیگ )سپین کی حکومت نے ایک اہم اور غیر معمولی اقدام کے تحت تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن اور پناہ کے متلاشی افراد کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ یورپ میں سخت ہوتی ہوئی امیگریشن پالیسیوں کے برعکس ایک نسبتاً انسان دوست اور شمولیتی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسپین کی سوشلسٹ حکومت کے مطابق یہ نیا فرمان اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے تحت وہ غیر دستاویزی تارکینِ وطن قانونی حیثیت حاصل کر سکیں گے جو 31 دسمبر 2025 سے قبل کم از کم پانچ ماہ اسپین میں مقیم رہے ہوں یا جنہوں نے بین الاقوامی تحفظ کے لیے درخواست دی ہو، بشرطیکہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔

اسپین کی وزیر برائے شمولیت، سماجی تحفظ اور مہاجرت ایلما سائیز نے اس فیصلے کو ایک تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق، سماجی ہم آہنگی اور معاشی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق قانونی حیثیت دینے سے نہ صرف تارکینِ وطن کو تحفظ ملے گا بلکہ وہ باقاعدہ لیبر مارکیٹ کا حصہ بن کر ملکی معیشت میں بھی کردار ادا کر سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق جنوبی یورپ کے ممالک ماضی میں بھی اس نوعیت کے اجتماعی ریگولرائزیشن پروگرامز کے ذریعے غیر قانونی تارکینِ وطن کو معاشرے میں شامل کرتے رہے ہیں، جس سے لیبر مارکیٹ اور ٹیکس نظام کو فائدہ پہنچا۔ تاہم یورپ کے کئی دیگر ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث امیگریشن کے معاملے پر عوامی رائے منقسم ہے۔

بیلجئیم کی پوزیشن کیا ہوگی؟

بیلجئیم میں اس وقت محدود پیمانے پر ریگولرائزیشن کے طریقۂ کار موجود ہیں، جن کے تحت خاندانی روابط یا ملازمت کی بنیاد پر کچھ افراد کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین جیسے بڑے پیمانے پر ایک بار میں قانونی حیثیت دینے کا امکان بیلجئیم میں فی الحال کم ہے، خصوصاً موجودہ سیاسی حالات اور سخت امیگریشن پالیسیوں کے باعث۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بیلجئیم میں شہریت کے سخت قوانین، زیادہ فیسیں اور خاندانی ملاپ کے پیچیدہ تقاضے ایسے عوامل ہیں جو اس نوعیت کے وسیع فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

یورپ بھر میں جب امیگریشن، لیبر کی قلت اور سماجی انضمام پر بحث جاری ہے، اسپین کا یہ فیصلہ آنے والے مہینوں میں یورپی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک اہم حوالہ بن سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button