
لاہور (اے ون نیوز) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت نے مبینہ طور پرانکشاف کیا ہے کہ9مئی واقعہ ہوا تو فیض حمید نے جنرل (ر) ساحر شمشاد کو اکسایا کہ ٹیک اوور کرلیں،لیکن حاضرسروس جنرل ساحر شمشاد نے انکار کردیا اور رول آف لاء کے ساتھ کھڑے رہے۔
انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری ناقص رائے کے مطابق مذاکرات کیلئے نہ کوئی کوشش ہوئی ہے اور نہ ہورہی ہے، نہ کوئی رابطے ہوئے ہیں اور نہ کوئی امکان ہے۔
کیونکہ مذاکرات حکومت کی ضرورت ہی نہیں ہے، نہ ہی پی ٹی آئی کا مذاکرات کیلئے ویژن واضح ہے۔محمود اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات کریں گے ، اگلے دن الٹ بیان دے دیا، علیمہ خانم کا بیان آیا، اس طرح وزیراعلیٰ کے پی کا بیان آیا کہ عمران خان کی کال پر ہم اسٹریٹ پاور کو لبیک کہتے ہیں۔
ماضی میں مذاکرات دونوں کی ضرورت تھی تو بیٹھے تھے، اب پی ٹی آئی کی ضرورت ہے، کیونکہ قیادت جیلوں میں ہے، پارٹی ہر گزرتے دن کے ساتھ نظام سے دور ہوچکی ہے، ایک سال میں 16پارلیمنٹرین گنوا دیئے۔
سب بڑا کیس کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کا ہے وہ ابھی تک کھلا نہیں ہے۔پی ٹی آئی کہتی کہ 9مئی کے حوالے سے مراد سعید اور بشریٰ بی بی پر الزام لگایا گیا ہے، لیکن جب فیض حمید کا ٹرائل ہوا، تو بیانیہ بنایا گیا کہ اس کو 9مئی کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے انکشاف کیا کہ 9مئی واقعہ ہوا توشاید آرمی چیف بیرون ملک دورے پر تھے، جنرل (ر)ساحر شمشاد نے مبینہ طورپرآرمی چیف عاصم منیر کو کہا کہ آپ کو آنے کی ضرورت نہیں ، میں معاملات کو سنبھال لوں گا۔
جنرل ر فیض حمید پر الزام یہ ہے کہ جنرل فیض نے جنرل ساحر شمشاد کو اکسایا کہ آپ ٹیک اوور کرلیں، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور رول آف لاء کے ساتھ کھڑے رہے۔اسی لئے یہ دفتر ختم کرنا ضروری سمجھا کہ آئندہ اگر کوئی ایسی صورتحال ہوتی ہے تو کسی کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوگا۔ یہ ساری چیزیں کورکمانڈر ہاؤس کے ٹرائل کیلئے رکھی ہوئی ہیں۔




