اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

وادی تیراہ معاملے سے فوج یا وفاق کا کوئی تعلق نہیں، وزیر دفاع

اسلام آباد (اے ون نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، علاقے میں کوئی اپریشن نہیں ہورہا، خیبرپختونخواہ حکومت ناکامی کا ملبہ فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر عطا تارڑ اور معاون خصوصی اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جرگے میں طے پایا کہ علاقے میں سکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، صوبائی حکومت نے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر دفاع کا مؤقف ہے کہ ہرسال لوگ یہاں سے ہجرت کرکے دوسرے علاقوں میں چلے جاتے ہیں، کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ یہ نقل مکانی معمول کی بات ہے، صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، صوبائی حکومت کی پرفارمنس دیکھیں توعلاقے میں ہسپتال، سکول، تھانہ نہیں، خیبرپختونخواہ حکومت اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ فوج پر ڈال رہی ہے کیوں کہ خیبرپختونخواہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی، صوبائی حکومت اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، اِس سارے معاملے میں فوج کا کوئی تعلق نہیں۔

خواجہ آصف کہتے ہیں کہ وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 500 لوگ موجود ہیں، ہمیں جہاں ان کے حوالے سے اطلاع ملتی ہے، قانون نافذ کرنے والے وہاں جاکر کارروائی کرتے ہیں، پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ حکومت کے کچھ لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں، 4 سے 5 سال پہلے ہوسکتا ہے کہ یہ بھتہ اسلام آباد بھی آتا ہو، ہزاروں فٹ بلندی پر واقعے ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے حاصل رقم کالعدم ٹی ٹی پی اور مقامی سیاسی لوگ لیتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button